بدھ,  21 جنوری 2026ء
پاکستان اور ترکیہ نے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی

اسلام آباد/انقرہ (روشن پاکستان نیوز): پاکستان اور ترکیہ نے غزہ میں پائیدار امن کیلیے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔

دفتر خارجہ پاکستان کے ترجمان طاہر اندرابی نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے غزہ میں پائیدار امن کیلیے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی، اس میں شمولیت غزہ امن منصوبے اور یو این لہ قرارداد 2803 کے تحت کی جا رہی ہے۔

ناروے کا ٹرمپ کو بڑا سفارتی جھٹکا، غزہ بورڈ آف پیس کی رکنیت مسترد

دفتر خارجہ نے بتایا کہ امید ہے غزہ بورڈ آف پیس سے غزہ میں مستقل جنگ بندی اور انسانی امداد میں اضافہ ہوگا، پاکستان غزہ کی تعمیر نو اور فلسطینی عوام کی انسانی ضرورتیں پوری کرنے کی حمایت جاری رکھے گا۔

ترجمان کے مطابق پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی مکمل حمایت کرتا ہے، پاکستان 2 ریاستی حل اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مؤقف پر قائم ہے، پاکستان بورڈ کے رکن کی حیثیت سے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

دوسری جانب، ترکیہ نے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔ ترک وزیر خارجہ حکان فدان ڈیووس میں بورڈ اجلاس میں ملک کی نمائندگی کریں گے۔

ترک وزیر خارجہ حکان فدان نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی امن کیلیے ترکیہ کا فعال سفارتی کردار ہے، ڈیووس فورم میں امن و استحکام پر اہم مشاورت متوقع ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے منظر عام پر لائے گئے بورڈ آف پیس کا مقصد محصور فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ ختم کرنے کے امریکی منصوبے کے تحت غزہ کے عارضی نظام حکومت کی نگرانی کرنا ہے۔

گزشتہ روز وائٹ ہاؤس نے بورڈ آف پیس کے کئی ارکان کے ناموں کا اعلان کیا جن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔

امریکی صدر خود اس بورڈ کی سربراہی کریں گے۔

ناروے کا ٹرمپ کو بڑا سفارتی جھٹکا، غزہ بورڈ آف پیس کی رکنیت مسترد

بورڈ کا قیام ٹرمپ کے اس منصوبے کا حصہ ہے جو انہوں نے غزہ جنگ کے خاتمے کیلیے پیش کیا۔ منصوبے کے مطابق ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ باڈی اس بین الاقوامی بورڈ کے زیر نگرانی کام کرے گی جو عبوری دور کے دوران غزہ کے نظم و نسق کی نگرانی کرے گا۔

واضح رہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کیلیے نامزد زیادہ تر افراد اسرائیل اور اس کی غزہ جنگ کے بڑے حامی رہے ہیں۔ فلسطینیوں کا سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ ارکان انصاف، تعمیر نو اور فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کے بجائے غلبے اور کنٹرول کو ترجیح دے سکتے ہیں۔

مزید خبریں