اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) دنیا بھر میں اپنی غیر معمولی اور اکثر درست ثابت ہونے والی پیش گوئیوں کے باعث پہچانی جانے والی بابا وانگا کی ایک پرانی پیش گوئی آج کے جدید ڈیجیٹل دور میں خاص اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بابا وانگا نے کئی دہائیاں قبل یہ پیش گوئی تھی کہ آنے والے وقت میں انسان اپنی روزمرہ زندگی کے بیشتر معاملات کے لیے چھوٹے الیکٹرانک آلات پر انحصار کرنے لگے گا، یہ آلات جہاں سہولت کا باعث بنیں گے، وہیں انسانی تعلقات کی نوعیت میں بھی نمایاں تبدیلی لے آئیں گے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت بابا وانگا کی اس بات کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، تاہم آج اسمارٹ فونز، ٹیبلٹس اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز کا بڑھتا ہوا استعمال اس پیش گوئی کی عملی تصویر پیش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ موجودہ دور میں بچے ہوں یا بزرگ، ہر عمر کے افراد نہ صرف کام بلکہ تفریح، تعلیم اور سماجی رابطوں کے لیے بھی انہی آلات پر انحصار کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان ضرور بنایا ہے، مگر بابا وانگا نے اس کے ممکنہ منفی اثرات کی بھی پیشگی نشاندہی کی تھی، جیسے جیسے انسان ٹیکنالوجی کے قریب ہوتا جائے گا، ویسے ویسے حقیقی انسانی روابط میں کمی آتی جائے گی، جس کے اثرات ذہنی صحت پر نمایاں ہوں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آج یہ خدشات کسی حد تک درست ثابت ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ اسکرین ٹائم میں مسلسل اضافے کے باعث تنہائی، بے چینی اور توجہ میں کمی جیسے مسائل عام ہوتے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں میں اسمارٹ فونز کا حد سے زیادہ استعمال ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جو مستقبل میں بڑے سماجی چیلنجز کو جنم دے سکتا ہے۔
سال 2026 میں کیا ہونے والا ہے؟ بابا وانگا کی چونکا دینے والی پیشگوئیاں
نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کی ایک تحقیق کے مطابق بڑی تعداد میں بچے سونے سے قبل بستر میں اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف نیند متاثر ہوتی ہے بلکہ ذہنی اور جسمانی نشوونما پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ماہرین اسکرین کے ضرورت سے زیادہ استعمال کو ڈپریشن، بے چینی اور سماجی تنہائی جیسے مسائل سے جوڑ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ بابا وانگا کو تاریخ میں اس لیے بھی یاد رکھا جاتا ہے کہ ان کی متعدد پیش گوئیاں وقت گزرنے کے ساتھ درست ثابت ہوئیں، جن میں دوسری جنگِ عظیم، 11 ستمبر کے واقعات اور 2004 کے سونامی جیسے بڑے عالمی سانحات شامل ہیں۔











