اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سیاسی بے یقینی اور معاشی خدشات کے باعث سونے کی قیمت نے نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔
بدھ کے روز عالمی منڈی میں سونے کی فی اونس قیمت 4 ہزار 800 ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ محفوظ سرمایہ کاری (سیف ہیون) کی بڑھتی ہوئی طلب اور امریکی ڈالر کی کمزوری نے سونے کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا۔
اسپاٹ گولڈ کی قیمت 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 4,821 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ کاروبار کے دوران یہ 4,843 ڈالر کی ریکارڈ سطح کو بھی چھو گئی۔اسی طرح فروری میں ڈیلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 1 فیصد اضافے کے بعد 4,813 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتے رہے۔
ماہرین کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یورپی ممالک پر ممکنہ ٹیرف، گرین لینڈ پر کنٹرول کے سخت بیانات اور نیٹو اتحادیوں پر تنقید نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں کہا تھا کہ گرین لینڈ کے معاملے پر ’’واپسی کا کوئی راستہ نہیں‘‘ اور طاقت کے استعمال کے امکان کو بھی رد نہیں کیا، جس سے عالمی منڈیوں میں بے چینی پھیل گئی۔
مزید پڑھیں: ملک میں سونا آج بھی ہزاروں روپے مہنگا،فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟
بعد ازاں ٹرمپ نے لہجہ نرم کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کے ساتھ مل کر ایسا حل نکالا جائے گا جس سے تمام فریق خوش ہوں گے، تاہم یورپی رہنماؤں نے سخت ردعمل دیا۔ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے واضح کیا کہ یورپ دباؤ یا دھمکیوں کے آگے نہیں جھکے گا۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار امریکی ڈالر اور طویل مدتی بانڈز سے نکل کر سونے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ڈالر یورو اور سوئس فرانک کے مقابلے میں تین ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب رہا، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مسلسل تیسرے روز بھی مندی دیکھی گئی۔











