اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کا ایک سال کے بعد منعقد ہونے والا اجلاس سپیشل سیکرٹری منسٹری آف ہیلتھ کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بغیر کسی نتیجہ و پیش رفت کے ختم ہوگیا. اجلاس کے شروع میں سپیشل سیکرٹری نے اپنے آپ کو وزیراعظم پاکستان کی طرف سے کونسل کا صدر بنانے کا دعویٰ کیا جس پر ممبران کونسل نے تحریری حکم نامہ طلب کیا جو کہ پیش نہ ہوسکا جس کے بعد سپیشل سیکرٹری آپے سے باہر ہوگیا اور ممبران کو نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دی گئیں جس پر تمام نرسنگ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ممبران یکجا ہوگئے اور نرسنگ کے شعبے سے تعلق نہ رکھنے والے کو کونسل کا صدر بنانے سے انکار کردیا۔ اجلاس کے شروعات میں ہی تنازعہ کھڑا ہوگیا جب سپیشل سیکرٹری اپنے ساتھ منسٹری آف ہیلتھ کے دس افراد بمعہ پولیس سکواڈ کونسل کے سیکرٹریٹ میں داخل ہوئے جس پر دیگر ممبران نے اعتراض کیا کہ صرف سپشل سیکرٹری اور ڈی جی ہیلتھ ممبران ہیں جبکہ دیگر تمام افراد غیر متعلقہ ہیں اور اُن کا کونسل کی کاروائی سے کوئی تعلق نہیں ہے لہذا وہ اجلاس میں نہیں آسکتے۔ تناؤ اُس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب سپیشل سیکرٹری نے اپنے آپ کو آرڈیننس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے زبردستی صدر مقرر کرنے کی کوشش کی۔ سپیشل سیکرٹری کے ساتھ آنے والے جوائنٹ سیکرٹری صلاح الدین نے ممبران کو قائل کرنے کی حد درجہ ناکام کوشش کی جس پر دونوں نے دھمکیاں دیں کہ ہم سینٹ آف پاکستان سے سپیشل سیکرٹری کو صدر بنوا لیں گے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ جوائنٹ سیکرٹری صلاح الدین نے اس سے قبل تقریباَ 4 دفعہ اپنے آپ کو کونسل کا ممبر منتخب کروانے کی کوشش کی اور حقائق کے برعکس سمری وزیراعظم پاکستان کو ارسال کی لیکن وزیراعظم پاکستان نے سمری ہر بار مسترد کردی.











