اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پھیپھڑوں کے کینسر کی ابتدائی علامات صرف سانس لینے میں دشواری، کھانسی یا سینے میں درد تک محدود نہیں ہوتیں، بلکہ یہ جسم کے دیگر حصوں، خاص طور پر ٹانگوں اور پیروں میں بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر ٹانگوں یا پیروں میں سوجن، درد، رنگت میں تبدیلی، جھنجھناہٹ، یا پٹھوں کی کمزوری محسوس ہو تو یہ بعض اوقات پھیپھڑوں کے کینسر کی ابتدائی علامات ثابت ہو سکتی ہیں۔
ٹانگوں یا پیروں میں سوجن اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب جسم کے ٹشوز میں اضافی مائع جمع ہونے لگتا ہے، جو شریانوں یا لمفی نالیوں کے متاثر ہونے کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کسی ایک ٹانگ میں درد، گرمی یا سرخی محسوس ہو تو یہ خون کے جمنے کی علامت ہو سکتی ہے، جو پھیپھڑوں کے کینسر کے مریضوں میں عام طور پر دیکھی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں: شعبہ صحت میں بہتری کے لیے انقلابی فیصلے
رپورٹس کے مطابق جلد کی رنگت میں تبدیلی، جیسے پیلاہٹ، نیلاہٹ یا سرخی، خون میں آکسیجن کی کمی یا خون کے بہاؤ میں رکاوٹ کی علامت ہو سکتی ہے۔ بعض مریضوں میں کیموتھراپی کے دوران یا بعد میں جھنجھناہٹ، جلن، یا چلنے میں دشواری جیسی علامات بھی سامنے آتی ہیں، جو اعصابی نظام پر علاج کے اثرات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔
کچھ کیسز میں ٹخنوں یا پیروں کے ناخنوں کی ساخت میں تبدیلی دیکھی گئی، جو طویل عرصے تک خون میں آکسیجن کی کمی یا پھیپھڑوں کی بیماریوں سے منسلک ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر کسی فرد کو ٹانگوں یا پیروں میں سوجن، درد یا رنگت میں غیر معمولی تبدیلی مستقل طور پر محسوس ہو تو اسے فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ بروقت تشخیص نہ صرف علاج کے امکانات بڑھاتی ہے بلکہ زندگی بچانے کے مواقع کو بھی نمایاں طور پر بہتر بناتی ہے۔











