منگل,  20 جنوری 2026ء
چھوٹی بچی کا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے دلچسپ مکالمہ ! فوری ایکشن فوری حل!

پشاور (روشن پاکستان نیوز) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کا فوری نوٹس لیتے ہوئے معصوم زینب، جو دل کے عارضے میں مبتلا ہے، سے فون پر رابطہ کیا اور ان کے لیے گاڑی بھیج کر انہیں اپنے دفتر مدعو کیا۔ چھوٹی زینب نے وزیر اعلیٰ سے بے جھجک اور معصوم انداز میں کہا کہ “میں بیمار ہوں، لیکن آپ نے میرا نہیں پوچھا!” یہ سن کر وزیراعلیٰ نے شفقت اور پیار کے ساتھ معذرت کی اور یقین دلایا کہ ہر قدم پر حکومت اس کے ساتھ ہے۔ وزیر اعلیٰ نے فوجی فاؤنڈیشن اسپتال میں زینب کے فوری علاج کے احکامات جاری کیے اور اس کے مکمل علاج کی ذمہ داری خود لی۔ آج ان شاء اللہ زینب کی سرجری ہوگی اور دعا کی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے مکمل شفا عطا فرمائے۔

مزید پڑھیں:سادہ اور بہترین سیاست کا آغاز، سہیل آفریدی کےسندھ دورے نے عوام کے دلوں پر نقش چھوڑ دیا

اسی دوران خیبرپختونخوا میں عوامی مسائل اور امن و امان کی صورتحال پر شہری حلقوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر زینب کے ساتھ وزیر اعلیٰ کے دلچسپ مکالمے کے بعد شہریوں نے اپنے روزمرہ مسائل جیسے تعلیم، صحت، روزگار، سڑکوں کی خراب صورتحال، پانی اور بجلی کی فراہمی کے مسائل اجاگر کیے۔ شہریوں نے کہا کہ سیاسی رسہ کشی اور ماضی میں جاری عسکری کارروائیوں کی وجہ سے پختونوں پر غیر ضروری جنگ مسلط کی گئی، تاہم موجودہ وزیر اعلیٰ سمیت عوامی حلقے امن اور ترقی کے خواہاں ہیں اور سختی سے عسکری آپریشنز کی مخالفت کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبے میں دیرپا امن قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وفاقی حکومت اور تمام ریاستی ادارے مثبت کردار ادا کریں اور مقامی حکومت کے ساتھ مل کر عوام کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کریں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ امن قائم رہنے سے نہ صرف ان کی زندگیوں میں بہتری آئے گی بلکہ اقتصادی سرگرمیوں اور ترقی کے منصوبوں کو بھی فروغ ملے گا۔

سماجی تنظیموں اور مقامی رہنماؤں نے بھی زور دیا کہ صوبے میں پائیدار امن کے لیے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر جامع حکمت عملی اپنائی جائے، کیونکہ امن و امان کے بغیر خیبرپختونخوا میں ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔ عوامی ردعمل اور مقامی رہنماؤں کے تجزیے سے یہ بات واضح ہے کہ خیبرپختونخوا کے شہری انصاف، بنیادی سہولیات اور امن کے حصول کے لیے پرعزم ہیں اور صوبے میں پائیدار ترقی کے لیے امن و امان کی صورتحال کو اولین ترجیح دی جائے۔

مزید خبریں