کراچی(روشن پاکستان نیوز) کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہونے والی ہولناک آتشزدگی نے شہر کو سوگوار کر دیا ہے۔ واقعے میں درجنوں افراد لاپتا ہیں جبکہ کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جائے حادثہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ریسکیو آپریشن کی پیش رفت، جانی و مالی نقصانات، متاثرین کے لیے امدادی پیکج اور مستقبل میں ایسے سانحات سے بچاؤ کے لیے اہم فیصلوں کا اعلان کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ گل پلازہ کی آتشزدگی میں اب تک 15 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ 65 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید لاشیں بھی ملبے سے برآمد ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فائر فائٹرز تین مختلف مقامات سے عمارت کے اندر داخل ہوئے ہیں اور انتہائی خطرناک حالات میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ اس دوران ایک فائر فائٹر شہید بھی ہوا، جس پر وزیراعلیٰ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہید فائر فائٹر کے والد بھی اسی شعبے سے وابستہ تھے، جو اس قربانی کو مزید قابلِ احترام بنا دیتا ہے۔
مراد علی شاہ کے مطابق آتشزدگی کے باعث گل پلازہ کی عمارت شدید طور پر کمزور ہو چکی ہے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے پیش نظر پوری عمارت کو گرانے کا فیصلہ بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے تاجربرادری کے ساتھ فوری میٹنگ کی گئی ہے تاکہ موجودہ صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی جا سکے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا نے پاکستان کیخلاف ٹی 20 سیریز کیلئے 17 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
وزیراعلیٰ سندھ نے ان اداروں سے بھی اپیل کی جن کے پاس جدید آلات اور وسائل موجود ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر ریسکیو اور بحالی کے عمل میں حکومت کی مدد کریں۔
پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ سانحے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ روپے مالی امداد دی جائے گی۔ اس کے علاوہ جن تاجروں کا کاروبار مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، ان کے نقصانات کا ازالہ بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسے واقعات میں متاثرین کو معاوضہ دیا گیا اور اس بار بھی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ گل پلازہ میں ایک ہزار سے بارہ سو کے قریب دکانیں مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو چکی ہیں۔ حکومت کی کوشش ہوگی کہ متاثرہ تاجروں کو متبادل جگہ فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنا کاروبار دوبارہ شروع کر سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کی شفاف انکوائری کمشنر کراچی کی سربراہی میں شروع کی جا رہی ہے۔ جو بھی کوتاہیاں سامنے آئیں گی انہیں درست کیا جائے گا تاکہ آئندہ اس نوعیت کے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ وزرا کو ہدایت دی ہے کہ لواحقین کے گھروں میں جاکر ان سے اظہار ہمدردی کریں، متاثرین کی بحالی کے لیے کمیٹی قائم کی گئی ہے اور متاثرین کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔











