کمرسر کی افق سے
تحریر: محمد مدثر حسین خٹک
شاعر حضرات کہتے ہیں کہ برسات کا موسم رومانوی ہوتا ہے، بادلوں کا امڈ آنا دلوں میں خوشی کی لہر دوڑا دیتا ہے۔ لیکن اگر آپ کو اس شاعری کا اصل “بھیانک” رخ دیکھنا ہو تو کبھی برسات کے موسم میں “کمرسر” تشریف لائیں۔ یہاں بادلوں کی پہلی کرن نمودار ہوتے ہی بجلی ایسے غائب ہوتی ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ باقی دنیا میں بادل رحمت بن کر برستے ہیں، لیکن ہمارے علاقے میں یہ اندھیرے کا پیغام لاتےہیں۔
کمرسر اور گردونواح میں بجلی کا ترسیلی نظام اتنا نازک ہو چکا ہے کہ شاید یہ ہوا کا ایک جھونکا یا بادلوں کی گھوری بھی برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ ذرا سی ہوا چلی نہیں کہ فیڈر ٹرپ! عوام جب پریشان ہو کر فیسکو (FESCO) کی ہیلپ لائن 118 پر کال کرتے ہیں، تو یا تو نمبر مصروف ملتا ہے یا پھر طویل انتظار کے بعد وہی رٹا رٹایا جواب ملتا ہے: “آپ کے علاقے میں فالٹ ہے، عملہ کام کر رہا ہے۔” یہ کیسا فالٹ ہے جو ہر بار بادل دیکھتے ہی پیدا ہو جاتا ہے؟ مقامی ایس ڈی او (SDO) اور آر او (RO) سے ہماری مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ دفتری کارروائی سے نکل کر زمینی حقائق کا جائزہ لیں۔ بلوں کی وصولی میں تو محکمہ بہت پھرتی دکھاتا ہے، کاش وہی پھرتی فالٹ درست کرنے اور لائنوں کی مینٹیننس (Maintenance) میں بھی دکھائی جائے۔
تاہم، انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ایک ہاتھ سے تالی نہ بجائیں۔ جہاں محکمہ کی غفلت ہے، وہیں بحیثیت شہری ہم بھی اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہیں۔ اکثر مشاہدے میں آیا ہے کہ بجلی کی ٹرانسمیشن لائنیں گھنے درختوں کے بیچ سے گزر رہی ہیں۔ ذرا سی ہوا چلنے پر درختوں کی شاخیں تاروں سے ٹکراتی ہیں، جس سے نہ صرف “ارتھ” ملنے سے بجلی ٹرپ ہوتی ہے بلکہ تاریں ٹوٹنے کا خدشہ بھی رہتا ہے۔ میری اہلیانِ علاقہ سے دست بستہ گزارش ہے کہ اپنے کھیتوں اور گھروں کے باہر دیکھیں، جہاں جہاں درخت بجلی کی تاروں کو چھو رہے ہیں، ازخود ان کی شاخ تراشی کریں۔ اس کے علاوہ کھمبوں پر لگے “پیالے” (Insulators) اور ڈسکیں اکثر ٹوٹی ہوتی ہیں یا سپارک کر رہی ہوتی ہیں۔ عام شہری کو تو علم نہیں ہوتا، لیکن بااثر افراد اور نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ان خراب پیالوں کی نشاندہی کر کے لائن مین یا محکمہ کو بتائیں۔ اگر ہم تعاون نہیں کریں گے تو اندھیرے ہمارا مقدر رہیں گے۔
میں اپنے حلقے کے منتخب نمائندے اور عوامی لیڈر، جناب ایم پی اے میجر اقبال خٹک صاحب کی توجہ اس اہم ترین مسئلے کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ میجر صاحب! آپ نے علاقے کی تعمیر و ترقی کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دی رہے ہیں۔ عوام نے آپ پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ لیکن بجلی کا یہ مسئلہ اب شدت اختیار کر گیا ہے، جس سے نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ سکول اور تاجر بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ آپ سے پرزور اپیل ہے کہ فیسکو کے اعلیٰ حکام کے ساتھ میٹنگ کر کے کمرسر کے لیے بجلی کا کوئی “مستقل حل” نکالیں۔ ہمیں عارضی پیوند کاری نہیں، بلکہ بوسیدہ تاروں اور کمزور ٹرانسفارمرز کی اپ گریڈیشن (Upgradation) چاہیے۔ ہمیں امید ہے کہ آپ اپنی روایتی فعالیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کروائیں گے۔
بجلی آج کے دور میں عیش وآرام نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ کمرسر کے باسی بھی اسی ملک کے شہری ہیں اور وہ بھی بل ادا کرتے ہیں۔ امید ہے کہ محکمہ، عوام اور ہمارے سیاسی نمائندے مل کر اس”اندھیرے” کے خلاف عملی قدم اٹھائیں گے تاکہ اگلی بارش میں ہم خوفزدہ ہونے کے بجائے موسم سے لطف اندوز ہو سکیں۔











