اتوار,  18 جنوری 2026ء
امریکی ریاست منی سوٹا میں جاری مظاہروں میں شدت، فوج کو تیار رہنے کا حکم

واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) امریکی ریاست مینی سوٹا میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری مظاہروں میں شدت آ گئی۔ جس کے باعث ریاست میں سیکیورٹی صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی ریاست منی سوٹا کے مختلف شہروں میں مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ جبکہ بعض علاقوں میں سڑکیں بند اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

صورتحال کے پیش نظر امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے 1500 فوجیوں کو ممکنہ طور پر مینی سوٹا میں تعینات کیے جانے کے لیے تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ فوجی اہلکار کسی بھی ہنگامی صورت حال میں ریاستی حکام کی مدد کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ پینٹاگون کی جانب سے ڈیوٹی پر موجود فوجی اہلکاروں کو بھی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری ردعمل دیا جا سکے۔

حکام کے مطابق وفاقی حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ریاستی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔

ادھر مقامی حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن رہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں۔ جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے مظاہرین اور سکیورٹی فورسز دونوں پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔ حالات کے پیش نظر مینی سوٹا میں سکیورٹی مزید سخت کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکہ کا گرین لینڈ معاملہ پرساتھ نہ دینے والے ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد

واضح رہے کہ امریکی ریاست منی سوٹا میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انورسمنٹ (آئس) کے خلاف مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ یہ مظاہرے منیاپولس میں پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد شروع ہوئے تھے۔ جس میں ایک آئس ایجنٹ کی فائرنگ سے امریکی خاتون شہری رینی گڈ ہلاک ہو گئی تھیں۔

مزید خبریں