هفته,  17 جنوری 2026ء
9 سال سے لاپتا محمد افضل کی بازیابی کا مطالبہ، بھائی کی راولپنڈی پریس کلب میں پریس کانفرنس

راولپنڈی (روشن پاکستان نیوز) کوٹ رادھا کرشن ضلع قصورکے نواحی گائوں چک نمبر 17میں 9سال سے اغواء ہونے والے محمد افضل ولد خوشی محمد جو کہ 5معصوم بچوں کا باپ ہے کو اغواء کار اشتہاری مجرم خالد عرف ساجد پولیس نے گرفتار کر لیا ،گرفتاری کو ایک ہفتے سے زائد عرصہ ہو گیا ہے مگر ابھی تک قصور پولیس نے ملزم کے خلاف کوئی عملی کاروائی نہیں کی نہ بھائی کو زندہ یا مردہ بازیاب کروا سکی۔ میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وزیر اعظم پاکستان، آئی جی پنجاب ڈی پی او قصور اور سی سی ڈی سے مطالبہ کرتا ہوں کہ میرے بھائی کو زندہ یا مردہ حالت میں بازیاب کروا کے انصاف دلایاجائے اس میں ملوث ملزمان کے خلاف کاروائی کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار محمد افضل ولد خوشی محمد کے بھائی محمد طارق نے راولپنڈی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ محمد طارق نے کہا کہ میرا بھائی محمد افضل جو کہ ساک فیکٹر میں کام کرتا تھا جو حادثے میں مضروب ہو گیا تھا اس نے کام فیکٹری سے چھوڑ د یا مور خہ 24-10-20216کو میرے بھائی کے اصل مجرم خالد عرف ساجدنے نوکری کیلئے کال کی وہ اپنی موٹر سائیکل 125ہنڈا نمبر LEL-3894پر گھر سے چلا گیا تو شام تک واپس نہ آیا جب یقین ہوگیا کہ میرے بھائی محمد افضل کو نامعلوم افراد نے اغواء کرلیا ہے تو تھانہ چھانگا مانگا قصور میں اغواء کا مقدمہ نمبر 703/16مورخہ 29-11-2016کو نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرایا ۔بعد ازاں پتہ چلا کہ اصل مجرم میرے خالہ زاد بھائی خالد عرف ساجد اور اسکا بڑا بھائی محمد بشیر ہیں مجرم خالد عرف ساجد نے پولیس کو بتایا کہ میرے بھائیوں نے افضل کو مارا ہے جنہوںنے میرے بھائی کو گھر بلوایا اور اغواء کرکے لا پتہ کیا دوبارہ قصور پولیس کودرخواست دی ملزمان کو گرفتار کیا جائے پولیس شنوائی نہیں کر رہی وجہ عناد رشتے سے انکار کی رنجش تھی حالانکہ بھائی کی شادی ہو چکی تھی ہم نے اسے بہت تلاش کیا نہ مل سکا, لاہور پولیس نے ایک اشتہاری ملزم جس کا نام ساجد عرف خالد ہے کو گرفتار کیا بعد میں پتہ چلا کہ اصل ملزم یہی دونوں سگے بھائی ہیں ساجد عرف خالد کا بڑا بھائی بشیر جو کہ شریک جرم ہے بھی غائب ہو گیا ہے پولیس گرفتاری کی بجائے ٹال مٹول کر رہی ہے محمد افضل کے بچے اور والدین سخت کرب کا شکار ہیں گھر جاتے ہیں تو بھائی کے معسوم بچے اپنے والد کا پوچھتے ہیں ہم کیا جوادب دیں ملزمان کو فوری گرفتار کرکے بھائی زندہ یا مردہ برآمد کرایا جائے اور ہمیں انصاف دلایا جائے ۔

مزید خبریں