منگل,  13 جنوری 2026ء
فیس بک پیج اےڈی ملک پر فحاشی کے فروغ پر عوامی ردِعمل، متعلقہ اداروں سے سخت کارروائی کا مطالبہ
فیس بک پیج اےڈی ملک پر فحاشی کے فروغ پر عوامی ردِعمل، متعلقہ اداروں سے سخت کارروائی کا مطالبہ

اسلام آباد(شہزاد انور ملک) سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر اے ڈی ملک کے نام سے چلنے والا ایک پیج اس وقت شدید تنقید کی زد میں ہے، جس پر الزام ہے کہ وہ پاکستان میں فحاشی اور عریانی کو فروغ دے رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک نازیبا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں ایک خاتون اور مرد شامل تھے۔ اس ویڈیو کے بعد مذکورہ پیج نےصرف بھر پور کوریج دی  بلکہ مبینہ طور پر جائے وقوعہ تک پہنچ کر وہاں سے بے حیائی پر مبنی رپورٹنگ بھی کی، جس پر عوامی حلقوں میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ویوز اور شہرت کی دوڑ میں کچھ پیجز اور نام نہاد میڈیا پلیٹ فارمز اسلامی اور معاشرتی اقدار کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق مسئلہ صرف گناہ یا غلطی کو اجاگر کرنے کا نہیں بلکہ پردہ پوشی کے بجائے لوگوں کی عزتیں اچھالنے کا ہے، جس سے نہ صرف متاثرہ افراد بلکہ ان کے خاندان اور پورا معاشرہ متاثر ہو رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اگرچہ وائرل ویڈیو میں شامل افراد اپنے عمل کے خود ذمہ دار ہیں، مگر اس واقعے کو اس انداز میں پھیلانا بھی ایک بڑا اخلاقی جرم ہے۔

اس معاملے پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور مختلف صارفین نے سخت الفاظ میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

مبین قاسر نے لکھا:
“بڑی مقدس جگہ کی زیارت کروا رہے ہو، اور بڑے پاکیزہ کام کی تشہیر کر رہے ہو۔ میری طرف سے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے لعنت قبول کرو۔ مشترکہ لعنت بھیجنے کی آپشن موجود ہے۔”

ممتاز خان کا کہنا تھا:
“سب سے بڑے گنہگار تم خود ہو جو اس گند کو اچھال رہے ہو۔”

محمد یوسف بلوچ نے ردعمل دیتے ہوئے لکھا:
“لعنت تم پر اور تم جیسے ان میڈیا والوں پر جنہوں نے ویوز کے چکر میں ایسی پوسٹ کو پروموٹ کرنے کے لیے بار بار اپنے چینلز پر چلایا۔”

حفیظ خان نیازی نے کہا:
“یار بس کر دو، اللہ نے عیبوں پر پردہ ڈالنے کا حکم دیا ہے۔ لعنتیو، اپنے ویوز کے چکر میں لوگوں کی زندگیوں سے کیوں کھیل رہے ہو، بس کر دو۔”

اسد مہر نے کہا:
“لکھ دی لعنت ہے آپ پر، ویوز کے چکر میں تم لوگ لوگوں کو اور زیادہ ذلیل کرتے ہو۔”

محمد عمر جٹ نے تبصرہ کیا:
“سمجھ نہیں آتی ہمارا میڈیا اس قدر برائی کا پرچار کیوں کرتا ہے۔ جتنا زیادہ برائی کو پھیلاؤ گے، برائی اتنی ہی بڑھے گی۔ اچھی باتوں کی تشہیر کریں تاکہ معاشرے میں مثبت چیزیں پھیلیں۔”

وقار الحق ستی نے لکھا:
“او بے شرمو، ان سب کو کیوں دکھا رہے ہو؟ کیوں اس گناہ میں شریک ہو رہے ہو؟ جسے نہیں بھی پتا اسے بھی بتا رہے ہو، ثواب سمجھ کر؟”

رانا عارفین نے کہا:
“بے غیرت انسان اینکر، اپنے الفاظ واپس لو۔ یہ ویڈیو سب سے زیادہ عورتوں نے دیکھی ہے، تم پورے پاکستان کی عورتوں کی توہین کر رہے ہو۔ پاکستانی عورتیں ایسی گندی ویڈیوز نہیں دیکھتیں۔”

سوشل میڈیا صارفین اور سماجی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ ایسے پیجز کے خلاف فوری کارروائی کی جائے جو معاشرتی اقدار، اخلاقیات اور اسلامی تعلیمات کے خلاف مواد پھیلا رہے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو سنسنی اور ویوز کے بجائے ذمہ داری، اخلاقیات اور اصلاحِ معاشرہ کو ترجیح دینی چاہیے۔

اس حوالے سے جب روشن پاکستان نیوز کے نمائندے نے مذکورہ فیس بک پیج پر دیے گئے رابطہ نمبر پر مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا تو پیج چلانے والے شخص نے نہ صرف تعاون سے انکار کیا بلکہ ہمارے نمائندے کے ساتھ بدتمیزی اور غیر اخلاقی رویہ اختیار کیا۔ اس رویے نے عوام کے شکوک کو مزید مضبوط کر دیا ہے کہ ایسے پیجز محض سنسنی، ویوز اور کمائی کے لیے اخلاقیات کو روند رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کو بھی یقینی بنانا ناگزیر ہے، عطا اللہ تارڑ

سوشل میڈیا صارفین اور شہری حلقوں کی جانب سے یہ سوال بھی شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ سائبر کرائم ونگ، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ ادارے آخر ایسے پیجز کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے جو کھلے عام معاشرے میں بے حیائی، فحاشی اور کردار کشی کو فروغ دے رہے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو ایسے غیر ذمہ دار پیجز معاشرتی اقدار کو مزید نقصان پہنچائیں گے اور آنے والی نسلوں کے لیے سنگین اخلاقی مسائل پیدا ہوں گے۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار ادارے فوری نوٹس لیتے ہوئے ایسے پیجز کو بند کریں، ان کے منتظمین کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور سوشل میڈیا کو اصلاح اور آگاہی کا ذریعہ بنایا جائے، نہ کہ بدنامی اور بے حیائی کے فروغ کا ہتھیار۔

مزید خبریں