پیر,  12 جنوری 2026ء
ایک سال میں 2 رمضان المبارک اور 2 عیدالفطر کب ہوں گی؟

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) دنیا بھر کے مسلمان سال میں ایک مرتبہ ماہِ رمضان اور ایک ہی بار عیدالفطر مناتے ہیں، تاہم ہر 32 یا 33 برس بعد ایک غیر معمولی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے جب یہ مقدس مہینہ اور تہوار ایک ہی عیسوی سال میں دو مرتبہ آ جاتے ہیں۔

اس وقت دنیا بھر کے مسلمان رمضان المبارک کی آمد کے منتظر ہیں، جس میں اب ڈیڑھ ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے۔ عام حالات میں رمضان سال میں ایک بار آتا ہے اور اسی کے اختتام پر ایک مرتبہ عیدالفطر منائی جاتی ہے، مگر اسلامی قمری کیلنڈر اور عیسوی گریگورین کیلنڈر کے فرق کے باعث ہر چند دہائیوں بعد یہ انوکھا موقع سامنے آتا ہے۔

ماہرین کے مطابق صرف تین سال بعد، یعنی 2030 میں، دنیا بھر کے مسلمان ایک ہی عیسوی سال میں دو بار ماہِ رمضان کا استقبال کریں گے۔ اسی طرح 2033 میں مسلمان اپنا مذہبی تہوار عیدالفطر بھی ایک سال میں دو مرتبہ منائیں گے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عیسوی کیلنڈر کا ایک سال 365 دن پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ ہر چوتھے سال لیپ ایئر میں یہ مدت 366 دن ہو جاتی ہے۔

اس کے برعکس اسلامی قمری کیلنڈر کے مطابق ایک سال عموماً 354 یا 355 دن کا ہوتا ہے، جو عیسوی سال سے تقریباً 10 سے 11 دن کم ہے۔ یہی فرق ہر سال رمضان اور عید کو عیسوی کیلنڈر میں آگے لے آتا ہے اور بالآخر 32 یا 33 برس بعد ایک پورے سال کا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔

ماضی میں آخری بار 1997 میں ایک ہی سال میں دو مرتبہ رمضان المبارک آیا تھا، جبکہ 2000 میں مسلمانوں نے دو مرتبہ عیدالفطر منائی تھی۔

فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ 2030 میں رمضان المبارک کا پہلا آغاز ممکنہ طور پر 5 جنوری کو ہوگا، جبکہ اسی سال دوسرا رمضان تقریباً 26 دسمبر سے شروع ہو سکتا ہے۔

رمضان المبارک میں کتنے دن باقی؟ممکنہ تاریخ سامنے آگئی

جنوری میں رمضان 29 یا 30 روز پر مشتمل ہوگا، جبکہ دسمبر میں تقریباً 6 روزے رکھے جائیں گے، یوں اس سال مجموعی طور پر 35 یا 36 روزے ہوں گے۔

اسی طرح 2033 میں عیدالفطر ممکنہ طور پر پہلی بار 2 یا 3 جنوری کو اور دوسری بار 23 یا 24 دسمبر کو منائی جائے گی۔

ادھر رواں برس رمضان المبارک کے آغاز کا امکان 17 یا 18 فروری کے درمیان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم ہر ملک میں رمضان کے آغاز کا حتمی اعلان مقامی رویتِ ہلال کمیٹی کے فیصلے کے بعد ہی کیا جائے گا۔

ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ اگرچہ فلکیاتی حسابات کے ذریعے رمضان کے آغاز کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، مگر اس کی حتمی تاریخ چاند کی رویت سے ہی طے کی جاتی ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب سمیت کئی اسلامی ممالک میں چاند دیکھنے کے لیے انسانی مشاہدے پر انحصار کیا جاتا ہے، جبکہ بعض ممالک سائنسی طریقۂ کار کو بنیاد بناتے ہیں۔

مزید خبریں