گجرات (کرائم رپورٹر) یونیورسٹی آف گجرات میں گزشتہ ایک دہائی سے منشیات فروشی کے منظم نیٹ ورک کے انکشاف نے تعلیمی حلقوں اور والدین میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ سنگین الزامات کے مطابق جامعہ میں ٹھیکیداروں کے روپ میں منشیات فروش سرگرم رہے، جس کے باعث طلبہ کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یونیورسٹی آف گجرات کے موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور الحق نے خود اپنی جامعہ کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں گزشتہ دس برسوں سے منشیات فروش مافیا کا راج چلا آ رہا ہے، جو مختلف ٹھیکیداروں کی آڑ میں طلبہ تک منشیات پہنچاتا رہا۔ ڈاکٹر ظہور الحق کے مطابق اس نیٹ ورک کے خلاف ماضی میں بھی آوازیں اٹھتی رہیں، تاہم سابق کئی وائس چانسلرز اس مافیا کے سامنے بے بس نظر آئے۔
انکشافات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس مکروہ دھندے میں بعض بااثر اور بڑے نام بھی ملوث ہو سکتے ہیں، جس کے باعث کارروائی میں رکاوٹیں پیش آتی رہیں۔ تعلیمی ادارہ جو نوجوان نسل کا مستقبل سنوارنے کے لیے بنایا جاتا ہے، وہاں منشیات جیسی لعنت کا پھیلاؤ نہ صرف ادارے کی ساکھ بلکہ پورے تعلیمی نظام پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
مزید پڑھیں: اے این ایف کا ملک بھر میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن، 5 ملزمان گرفتار، بھاری مقدار میں منشیات برآمد
طلبہ، والدین اور سول سوسائٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ ان الزامات کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو ایک پوری نسل اس کے بھیانک نتائج بھگتنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔











