جمعه,  09 جنوری 2026ء
سال 2026 میں سونے کی قیمت کہاں تک جا سکتی ہے؟پیش گوئیاں سامنے آ گئیں

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) سونا حالیہ برسوں میں بہترین کارکردگی دکھانے والی سرمایہ کاریوں میں شامل رہا ہے اور ماہرین کے مطابق یہ رجحان 2026 میں بھی برقرار رہنے کا امکان ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاری بینکوں کی تازہ پیش گوئیوں کے مطابق سال کے اختتام تک سونے کی قیمت تاریخی سطح کو چھو سکتی ہے۔

بین الاقوامی سرمایہ کاری بینک گولڈمین سیچ (Goldman Sachs)کے مطابق 2026 کے آخر تک سونے کی قیمت تقریباً 4 ہزار 900 ڈالر فی اونس تک پہنچ سکتی ہے، جس کی بنیادی وجہ عالمی معاشی حالات اور مضبوط طلب کو قرار دیا جا رہا ہے۔

جے پی مورگن (J.P. Morgan)نے اس سے بھی زیادہ جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 2026 کے آخر میں سونے کی قیمت 5 ہزار 55 ڈالر فی اونس تک جانے کی پیش گوئی کی ہے، جس کی وجہ مرکزی بینکوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر سونے کی خریداری اور نرم مالیاتی پالیسیوں کو بتایا گیا ہے۔

ڈوئچے بینک (Deutsche Bank)کے مطابق 2026 میں سونے کی اوسط قیمت 4 ہزار 450 ڈالر رہنے کا امکان ہے، تاہم اس دوران قیمت 3 ہزار 950 سے 4 ہزار 950 ڈالر کے درمیان اتار چڑھاؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: ٹک ٹاکر کاشف ضمیر کا سونا جعلی نکلا ،10 لاکھ شرط بھی ہار گئے

مورگن اسٹینلے(Morgan Stanley) نے نسبتاً محتاط انداز میں سونے کی قیمت 4 ہزار 400 ڈالر فی اونس تک رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے، جبکہ بینک آف امریکا کے مطابق اوسط قیمت 4 ہزار 538 ڈالر ہو سکتی ہے اور سازگار حالات میں یہ 5 ہزار ڈالر کے قریب بھی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات میں مرکزی بینکوں کی جانب سے ذخائر میں اضافہ، ممکنہ شرح سود میں کمی، عالمی سیاسی و معاشی بے یقینی اور محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کی بڑھتی ہوئی مانگ شامل ہیں۔ خاص طور پر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مرکزی بینک سونے کو اپنی ریزرو پالیسی کا اہم حصہ بنا رہے ہیں۔

تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مختصر مدت میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی آ سکتا ہے، خاص طور پر اگر امریکی ڈالر مضبوط ہو یا شرح سود میں متوقع کمی نہ ہو سکے۔ بعض ادارے، جیسے سٹی بینک، نسبتاً کمزور پیش گوئیاں بھی کر چکے ہیں۔

مالی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سونا طویل المدتی سرمایہ کاری اور غیر یقینی حالات میں تحفظ کے لیے مؤثر سمجھا جاتا ہے، اور 2026 میں بھی یہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم آپشن رہے گا۔

مزید خبریں