اتوار,  30 نومبر 2025ء
اختر شہاب کی کتاب “بادل”: سائنسی ادب پر بہترین کاوش

تحریر: ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

اردو ادب میں سائنسی موضوعات پر تصنیف و تالیف کا رجحان ہمیشہ محدود رہا ہے۔ بیشتر علمی و ادبی مصنفین نے انسان، فطرت، محبت یا معاشرتی مسائل کو اپنا موضوع بنایا، مگر سائنس کی خشک اور منطقی دنیا کو اردو نثر میں بیان کرنا ایک مشکل فن ہے۔ اختر شہاب جن کا اصل نام مسعود اختر خان ہے نے اس مشکل کام کو آسانی اور فصاحت کے ساتھ سرانجام دینے کی کوشش کی ہے۔
اختر شہاب محکمۂ موسمیات میں بطور پرنسپل میٹرولوجسٹ خدمات انجام دیتے رہے اور 2015ء میں ریٹائر ہوئے۔ عملی زندگی میں بادلوں، موسم، ہوا کے دباؤ اور موسمی تغیرات کا مشاہدہ ان کے پیشہ ورانہ معمول کا حصہ رہا۔ یہی تجربہ بعد ازاں ان کی تصنیفی دنیا میں ڈھل کر ایک منفرد سائنسی تصنیف “بادل” کی صورت میں سامنے آیا۔
ان کی دیگر کتابوں میں افسانوی مجموعے “من تراش”، “ہم مہرباں”، سفرنامے “سفرین کہانی” اور “الحین بھوم” اور ذاتی سوانح “اختر شہابیاں” شامل ہیں۔ ان کے افسانوں پر پنجاب یونیورسٹی اور غازی یونیورسٹی میں تحقیقی مقالے لکھے جاچکے ہیں۔
کتاب “بادل” اردو زبان میں بادلوں کے سائنسی، جغرافیائی اور ماحولیاتی پہلوؤں پر ایک جامع اور مدلل تصنیف ہے۔ مصنف نے بادلوں کی ساخت، اقسام، تشکیل کے عوامل، موسمی تبدیلیوں اور برسات کے عمل کو نہایت سادہ اور دل چسپ انداز میں بیان کیا ہے۔
یہ کتاب میں بادلوں کی مختلف اقسام مادر بادل (Mother Clouds)، پہاڑی اٹھاؤ سے بننے والے بادل (Orographic Clouds)، خصوصی بادل (Special Clouds)، کُہر (Fog)، صاعقہ اور رعد، برسات کا عمل اور بادلوں کی پیمائش و مشاہدہ جیسے موضوعات کو تصویری و اصطلاحی وضاحت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف موسمیات کے طلباء و محققین کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے بلکہ عام قارئین کے لیے بھی بادلوں اور موسم کے نظام کو سمجھنے کا سادہ ذریعہ ہے۔کتاب کا بنیادی موضوع فطرت اور سائنس کے ملاپ پر مبنی ہے۔ اختر شہاب نے بادلوں کو محض آسمانی مظہر کے طور پر نہیں بلکہ انسانی زندگی کے ساتھ جڑے ہوئے ایک قدرتی نظام کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
مصنف کا مقصد اردو قارئین میں سائنسی شعور بیدار کرنا، پیچیدہ اصطلاحات کو آسان زبان میں بیان کرنا اور اردو میں سائنسی ادب کی کمی کو پورا کرنا ہے۔
یوں “بادل” اردو زبان میں سائنسی علم کی ترویج کا ایک سنگِ میل ثابت ہوتی ہے۔
کتاب کی ساخت نہایت منظم اور سائنسی اصولوں کے مطابق ہے۔ ہر باب ایک مخصوص پہلو سے تعلق رکھتا ہے، جیسے بادلوں کی تشکیل، بادلوں کی اقسام و درجات، مشاہدہ و پیمائش، برق و گرج کے مظاہر، برسات کا عمل اور موسمی پیش گوئی میں بادلوں کا کردار شامل ہیں۔
اختر شہاب نے اردو اور انگریزی اصطلاحات کو ساتھ ساتھ درج کیا ہے تاکہ قارئین بین الاقوامی سائنسی معیار سے واقف رہیں۔ کتاب میں تصاویر اور خاکے شامل ہیں جو سائنسی تصورات کو بصری انداز میں سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کا اسلوب سادگی، وضاحت اور تکنیکی صحت کا حسین امتزاج ہے۔ نہ ثقیل زبان، نہ غیر ضروری تفصیل بلکہ ایک واضح، معلوماتی اور قاری دوست انداز میں کتاب لکھی گئی ہے۔
اگرچہ یہ ایک سائنسی کتاب ہے، مگر اختر شہاب نے اپنی نثر کو خشک نہیں ہونے دیا۔ ان کے ہاں تشبیہات، تمثیل، وضاحت اور مشاہداتی جزئیات کی فراوانی ہے۔ مثلاً بادلوں کی حرکت کو وہ انسانی رویوں سے تشبیہ دیتے ہیں، کہیں فطرت کے حسن کی جھلک دکھاتے ہیں، تو کہیں آسمان کو ایک متحرک کینوس کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے تجزیاتی اسلوب کے ساتھ ساتھ تجرباتی نثر کی روایت کو بھی نبھانے کی کوشش کی ہے یعنی مشاہدہ، تجربہ اور استدلال تینوں عناصر ایک ساتھ چلتے ہیں۔
“بادل” محض موسمیات کی ایک کتاب ہی نہیں بلکہ اردو میں سائنسی نثر کا ایک تجربہ بھی ہے۔
اختر شہاب نے جس انداز سے انگریزی مواد کو اردو میں منتقل کیا ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔ اس عمل سے ایک طرف اردو زبان میں سائنسی اصطلاحات کو جڑنے کا موقع ملا، دوسری طرف عوام میں سائنس سے دلچسپی بڑھانے کا ذریعہ پیدا ہوا۔
کتاب کی سب سے نمایاں خوبی یہ ہے کہ یہ نصابی و تحقیقی دونوں حیثیتوں میں قابلِ مطالعہ ہے۔
طلباء کے لیے سادہ انداز میں مفید معلومات اور محققین کے لیے مفصل و سائنسی وضاحتیں فراہم کرتی ہے۔
ڈاکٹر جمیل حسن کاظمی (سابق چیئرمین، شعبہ جغرافیہ، کراچی یونیورسٹی) کی جانب سے کتاب پر نظرثانی ہونا اس کی علمی اہمیت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ کتاب کا ایک اور نمایاں پہلو عوامی افادیت ہے۔ اختر شہاب نے صرف ماہرینِ موسمیات کے لیے نہیں بلکہ عام قاری کے لیے بھی فہمِ فطرت کی راہیں کھولی ہیں۔
“بادل” اردو سائنسی ادب میں ایک سنگِ میل ہے۔ اختر شہاب نے اس کتاب کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ سائنس کی زبان بھی اردو ہو سکتی ہے، اگر بیان میں خلوص، تجربہ اور شعور شامل ہو۔
بادل نامی یہ کتاب نہ صرف اسکولوں، کالجوں اور جامعات کی لائبریریوں میں ہونی چاہیے بلکہ ہر اُس شخص کے لیے مفید ہے جو فطرت کو سمجھنا چاہتا ہے۔
اختر شہاب کا یہ کارنامہ اردو زبان کے سائنسی ادب میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے ایک ایسا باب جو بادلوں کی طرح اُمید، روشنی اور علم کی برسات کرتا ہے۔ کتاب کی اشاعت پر میں مصنف اور
نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد دونوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

*ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق خیبرپختونخوا چترال سے ہے آپ حالات حاضرہ، علم ادب، لسانیات اور تحقیق و تنقیدی موضوعات پر لکھتے ہیں ان سے اس ای میل rachitrali@gmail.com اور واٹس ایپ نمبر 03365114595 پر کیا جاسکتا ہے ۔

مزید خبریں