استنبول(روشن پاکستان نیوز) ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ فلسطین پر قابض اسرائیلی فورسز کی اشتعال انگیزیوں کے باوجود مزاحمتی تحریک حماس جنگ بندی معاہدہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
استنبول میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا غزہ میں 16 ہزار 500 سے زائد طلباء، 830 اساتذہ اور تعلیمی عملے کو شہید کیا گیا، غزہ میں 193 سائنسدان اور ماہرین تعلیم، 270 سے زیادہ صحافیوں کو شہید کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا غزہ میں 7 لاکھ 85 ہزار سے زیادہ طلباء کو تعلیم کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے، اسرائیل نے غزہ کے عوام کو بے گھر کر دیا ہے اور انہیں خوراک سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔
ترک صدر کا کہنا تھا اسرائیل بہانے بنانا کر غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے، اسرائیل کی اشتعال انگیزیوں کے باوجود حماس جنگ بندی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
مزید پڑھیں: غزہ میں بین الاقوامی سکیورٹی فورس کی تجویز پر عالمی ردِعمل — “نو سامراجی منصوبہ” قرار
رجب طیب اردوان کا کہنا تھا ترکیے غزہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے، دیرپا امن اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکیے ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام تک دو ریاستی حل کا دفاع جاری رکھے گا۔
اسرائیلی افواج خان یونس میں گھر مسمار کر رہی ہیں، فلسطینیوں کی گرفتاریاں بھی جاری ہیں: عرب میڈیا
دوسری جانب عرب میڈیا کا بتانا ہے کہ اسرائیل کی ہٹ دھرمی جاری ہے اور اسرائیلی فورسز کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے رفح شہر میں حملے کیے، اسرائیلی افواج خان یونس میں گھر مسمار کر رہی ہیں، مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی گرفتاریاں بھی جاری ہیں۔
عرب میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ پراسرائیلی حملوں میں شہدا کی تعداد 70 ہزارسے تجاوز کرگئی ہے۔











