اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز)سابق ڈپٹی ڈائریکٹر او آر آئی سی نے کہا ہے کہ وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی نے بغیر کسی پیشگی نوٹس کے نوکری سے برطرف کر دیا ہے،جھوٹی ایف آئی آر درج کر دی گئی، اور یہاں تک کہ میری پی ایچ ڈی فیلو شپ بھی بند کر دی گئی، انہوں نے ان خیالات کا اظہار اپنے وکیل محمد یونس اعوان (ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، سابق سول جج) کےہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، ان کا مزید کہنا تھا کہ سترہ جولائی 2025ٰء کو ایک حملے کے بعدانہیں بغیرکسی انکوائری کے انتقامی ایف آئی آرز اور اپنی پی ایچ ڈی فیلوشپ کی بندش کا سامنا کرنا پڑاہے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کے بجائےتشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ مجھ پر حملے کی اطلاع دینے کے باوجود ایف آئی آر 12 دن کی تاخیرسے درج ہوئی،اس حوالے سے صدر/چانسلر کے سامنے سروس اپیل دائر کی ہے جبکہ فوسپاکے سامنے ہراساں کرنے کی شکایت، اور قانونی علاج کے ذریعے اپنے حقوق کی پیروی جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ انکی لڑائی آئین کے تحت مناسب عمل، وقار اور مساوات کے لیے ہے،کسی بھی خاتون اسکالر کو ہراساں کرنے کی اطلاع دینے پر اپنا کیریئر نہیں کھونا چاہئے،یہ کیس ایک موجودہ VC کے ذریعے اختیارات کے غلط استعمال کو نمایاں کرتا ہے اور تعلیمی آزادی، کام کی جگہ کی حفاظت، اور آئینی تحفظات کے بارے میں نظامی سوالات اٹھاتا ہے۔
