جمعه,  04 اپریل 2025ء
وزیراعظم کا بجلی 7 روپے 41 پیسے فی یونٹ سستی کرنے کا اعلان

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی کی قیمتیں کم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشی استحکام کے سفر میں آرمی چیف کا بھرپور تعاون رہا۔

وزیراعظم نے کہا کہ سب کا شکرگزار ہوں کہ عید کی چھٹیوں سے اگلے دن پورے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے یہاں تشریف فرما ہیں،انہوں نے کہا کہ عید کے موقع کی مناسبت سے، پاکستان کی معاشی ترقی اور استحکام کے حوالے سے ادنیٰ خوشخبری سنانے آیا ہوں۔

انہوں نے کہاکہ وعدہ پورا ہوا جو مسلم لیگ کے قائد محمد نواز شریف نے اپنے منشور میں اس کا اعادہ کیا تھا کہ اللہ نے موقعہ دیا تو معاشی میدان میں ترقی کی منازل طے کریں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ماضی کے حوالے سے کچھ گزارشات کرنا چاہوں گا، ہم نے پر خطر، انتہائی دشوار گزار سفر کا مقابلہ کیسے کیا اور کن کن چیلنجز کا سامنا کیا، جب حکومتی ذمہ داری سنبھالی تو پاکستان پر دیوالیہ ہونے کی تلوار لٹک رہی تھی۔

وزیراعظم نے مزید کہاکہ کاروباری حضرات اور پوری قوم خوفزدہ تھی کہ حالات کس کروٹ بیٹھیں گے، عدم استحکام عروج پر تھا، آئی ایم ایف بات سننے کو تیار نہیں تھا، امپورٹس کے لیے ایل جی کھولنے کے لیے بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، بعض اوقات مجھے خود ایل جی کھولنے میں مشکلات تھیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو ڈیفالٹ کے کنارے لانے کے لیے، افراتفری کا شکار کرنے والے خوشی سے مرے جارہے تھے، انہیں یقین کی حد تک یہ بات پختہ ہوگئی تھی ان کے ذہنوں میں کہ کچھ ہوجائے اب پاکستان کو ڈیفالٹ سے نہیں بچایا جاسکتا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس میں وہ سب حدیں پار کر گئے، یہ وہی ٹولہ ہے جس نے آئی ایم ایف سے کیے اپنے معاہدے کو خود توڑا، اسے معطل کر دیا گیا، پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے دن رات کی کوششوں میں پہاڑ نما رکاوٹیں پیدا کی گئیں۔

مزید پڑھیں: ہم نے قرضے کی زندگی کو وقار کی زندگی میں بدلنا ہے، وزیراعظم شہباز شریف

انہوں نے انتہائی گھناؤنا کردار ادا کیا، اپنی سیاست کو بچانے کے لئے ریاست پاکستان کے مفادات کو قربان کر دیا، وزیر اعظم نے کہا کہ سمجھتا ہوں یہ وہ اللہ کی کمال مہربانی ہے کہ پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، گھٹا ٹوپ اندھیروں سے یہ معیشت نکل آئی، ملک میں معاشی استحکام آچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے قائد نواز شریف کی قدم قدم پر میری رہنمائی ساتھ رہی، اس حقیقت کا کھلے دل سے اعتراف نہ کروں تو جدوجہد اور قربانی کی کہانی نامکمل رہے گی، آرمی چیف کا میری ٹیم کی سپورٹ میں کلیدی کردار رہا، سب کی کاوشیں منظور ہوئیں، ہم آج استحکام کے اس سفر پر ہیں، جن میں ہم استحکام لے کر آئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی ترقی و استحکام کا سفر جاری ہوا چاہتا ہے، سمجھتا ہوں عوام نے پچھلے مرحلے میں بہت قربانیاں دیں، وہ وقت تھا کہ پنشن لینے والا جب بجلی کا بل ادا کرتا اسے علم نہ تھا کہ وہ بچے کی دوا کہاں سے لائے، بجلی کا بل آنے پر اس کے گھر میں بے چارگی اور افسردگی کا عالم ہوتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ دکاندار ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے تھے کہ کوئی گاہک نہیں آتا تھا، کاروباری حضرات کاروبار بند کرنے پر مجبور تھے، ہمیں احساس ہر وقت ہونا چاہیے کہ عام آدمی کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے، قوم کے لیے عید کا تحفہ پیش کرنے جارہا ہوں، پوری قوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہتا ہوں، جن مسائل نے ہمیں غربت کی طرف دھکیلا انہیں جڑ سے کاٹ نہ پھینکا تو آئندہ کا ریلیف بے معنی ہوجائے گا۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ اب ہم 2025 میں ہیں مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں آگئی ہے، پیٹرول کی قیمتیں جن میں یقیناً میرا اور آپ کا عمل دخل نہیں ہے پھر بھی ان میں 38 روپے کمی آئی ہے، انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پاکستان میں آج بھی سب سے کم ہیں۔

جون 2024 گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت 48 روپے 70 پیسے تھی، وہ اس وقت 45 روپے 5 پیسے پر ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ گھریلو صارفین کیلئے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 7 روپے 41 پیسےکمی کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ جون 2024 میں صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمت فی یونٹ 58 روپے 50 پیسے تھی، بعد میں 48 روپے 19 پیسے ہو گئی، صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت 7 روپے 59 پیسے کم کر رہا ہوں۔

مزید خبریں