ہماری اخباری صنعت میں جب سے سیٹھ لوگ مالک بنے ہیں، اخباری صنعت کی بلے بلے ہو گئی ہے۔۔ کئی لوگ تو محض اس لیے اخبار کے مالک بنے کہ وہ چند شرارتی مالکان کی بلیک میلنگ سے تنگ آ چکے تھے۔ کئی یہ کہتے ہیں کہ اخبارات کو جتنے اشتہارات دیتے تھے اس سے کم خرچ میں اب اپنا ذاتی اخبار چھاپ لیتے ہیں اور وزیروں مشیروں سے تعلقات الگ بن جاتے ہیں۔
ایسے ہی ایک اخبار کے مالک نے سوچا کہ مالک میں ہوں تو رپورٹرز میٹنگ ایڈیٹر کیوں لے؟ انہوں نے کام سمجھنا شروع کیا اور غالباً اپنی دوسری ہی میٹنگ میں انہوں نے کہا بھئی آپ سب سے تعارف ہو گیا لیکن جو رپورٹر سب سے زیادہ کام کرتا ہے پ۔ر (پریس ریلیز) اس سے ملاقات نہیں ہوئی۔ یہ کون ہے بہت محنتی ہے، میں اسے شاباش دینا چاہتا ہوں کیونکہ سب سے زیادہ خبریں یہ رپورٹر دیتا ہے۔۔
یہ مجھے اس لیے یاد آیا کہ پاکستان میں 29سال کے بعد آئی سی سی کا ایونٹ ہو رہا ہے۔ چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان دفاعی چیمپیئن تھا مگر پہلے راؤنڈ میں ہی مقابلوں سے باہر ہو گیا۔۔ وہ بھی ایسے کہ اپنے گروپ میں سب سے آخری پوزیشن پہ۔۔۔ پاکستان کو ٹورنامنٹ کا جو واحد پوائنٹ ملا ہے وہ بھی بارش کے باعث مل سکا ہے۔
اس پہ کسی دل جلے نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے چیمپیئنز ٹرافی میں ایک پوائنٹ حاصل کر لیا، میچ میں پاکستان کی جانب سے بارش نے بہترین آل راؤنڈ کارکردگی دکھائی۔۔۔ اس وجہ سے بارش کو پاکستان کی جانب سے مین آف دی میچ اور پلئیر آف دی سیریز کا انعام دیا گیا ہے۔ کہنے والے نے یہ بھی کہا کہ اگر یہ تبصرہ ہمارے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی تک پہنچا تو کہیں وہ بھی بارش سے ملنے اور اسے انعام دینے کی معصوم خواہش کا اظہار نہ کر بیٹھیں۔
دیکھیں ناں، جتنی معلومات اخبارات کے حوالہ سے سیٹھ صاحب کو تھیں اتنی ہی معلومات اپنے محسن نقوی صاحب کو کرکٹ کے بارے میں ہیں۔ اس لیے وہ ایسی خواہش کر ہی سکتے ہیں۔ اپنی ان ہی معلومات کے باعث انہوں نے عاقب جاوید کو چیف کوچ اور چیف سلیکٹر بنایا ورنہ انہیں معلوم ہوتا کہ عاقب جاوید پی ایس ایل کی جس فرنچائز کے ہیڈ کوچ تھے وہ پہلے چار ایڈیشن میں آخری پوزیشن پہ آئی تھی حالانکہ اس میں ٹاپ کرکٹر لیے گئے تھے۔
انہیں کرکٹ کی معلومات ہوتیں تو وہ شاہین آفریدی کی جگہ بابر اعظم کو دوبارہ کپتان بنانے کے بجائے ان دونوں کو ایک ساتھ ہی ٹیم سے باہر کرتے تاکہ ڈریسنگ روم کا ماحول اچھا ہو جاتا۔ بابر اعظم کو ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں شکست پہ صرف کپتانی سے ہٹایا گیا جبکہ انہیں عزت کے ساتھ گھر بھیجا جانا چاہیے تھا۔
کرکٹ کے بجائے اب بابر اعظم کی تمام تر توجہ ماڈلنگ پہ ہے، اشتہارات میں بھی ایسے اشتہار جن میں وہ بار بار کہتے ہیں ڈیٹا بہت ہے۔۔ بھائی صاحب کو موقع دیا جائے کہ ان کے پاس نہ صرف ڈیٹا بہت ہو بلکہ وقت بھی بہت ہو اور وہ اطمینان سے انٹرنیٹ کی تیز ترین اسپیڈ کا دائرہ اٹھا سکیں۔۔ کل ہی انتہائی بے خبر خیالی ذرائع سے بتا رہا تھا کہ بابر کی خراب ہوتی ہوئی کارکردگی پہ انہیں کوچ کی جانب سے کہا گیا کہ وہ روزانہ بیٹنگ کی پریکٹس دو گھنٹے کریں۔۔۔ بابر نے کوچ کو بتایا کہ وہ ڈھائی گھنٹے بیٹنگ پریکٹس کرتے ہیں۔۔ اس پہ کوچ نے کہا کہ پھر آپ تین گھنٹے پریکٹس کریں۔ اگلے میچ میں بھی جب ان کی کارکردگی بہتر نہ ہوئی تو کوچ نے پوچھا کہ تم بیٹنگ پریکٹس کتنی دیر کرتے ہو؟. بابر نے بتایا کہ وہ تین گھنٹے پریکٹس کرتے ہیں، اس پہ کوچ نے کہا تم پھر ساڑھے تین گھنٹے پریکٹس کرو۔۔۔ بابر اعظم نے اس پہ کوچ کو صاف جواب دے دیا اور بولے کہ اس سے زیادہ نہیں ہو سکتا کیونکہ موبائل کی بیٹری تین گھنٹے سے زیادہ نہیں چلتی۔۔ کوچ نے جب پوچھا کہ موبائل کی بیٹری کا تمہاری پریکٹس سے کیا تعلق تو بابر نے کہا کہ میں اپنے موبائل پہ ہی تو کرکٹ کھیلتا ہوں۔۔ یہ سن کر کوچ نے سر پیٹ لیا۔۔۔
لیکن میں نہیں سمجھتا کہ یہ بات سچ ہو گی، یہ ضرور بابر سے جلنے والے لوگوں نے لطیفہ گھڑا ہو گا۔ ورنہ عاقب جاوید یہ نہیں کہتے کہ بابر ایک بڑا کھلاڑی ہے اور وہ ایک روز ضرور بڑی اننگز کھیلے گا۔ ماشاءاللہ اپنے کھلاڑیوں پہ بھروسہ ہو تو ایسا۔۔ لوگ ایسے ہی عاقب جاوید اور بابر اعظم سے جلتے ہیں۔ میرا ڈرائیور کہنے لگا کہ میرا پوتا ضرور بابر اعظم کی وہ لمبی اننگز دیکھے گا۔۔ میں نے پوچھا تمہارا پوتا کہاں ہوتا ہے؟. کہنے لگا ابھی میری شادی نہیں ہوئی۔۔۔ یعنی بھلا بتائیے کہ طنز بھی کس طرح لوگ کرنے لگے ہیں۔۔
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں جب عاقب جاوید نے پریس کانفرنس کی تو انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم جن وکٹوں پہ کھیل رہے ہیں یہ ہائی سکورنگ پچز ہیں۔۔۔ اس پہ سب حیرت سے دیکھنے لگے کہ اگر یہ ہائی سکورنگ پچز ہیں تو ہمارے کرکٹرز کے ہاتھ کسی نے باندھ رکھے تھے کہ وہ ڈھائی سو سے آگے نہیں جا پاتے؟.
ہمارے کپتان محمد رضوان ایک لڑنے والے کپتان ہیں، زیادہ تر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ بھی دکھاتے ہیں۔۔ ان کا کہنا ہے یا ہم جیتتے ہیں یا سیکھتے ہیں۔ اس حساب سے دیکھیں تو اب تک محمد رضوان زیادہ تر تو سیکھنے کے مرحلے سے ہی گزر رہے ہیں۔۔ میرے خیال میں تو یہ اچھا ہی ہوا ہے کہ ہمارا سفر پہلے راونڈ میں ہی تمام ہو گیا کیونکہ بقول خادم حسین رضوی مرحوم، کرکٹ کھیل ہی کافروں کا ہے اس لیے اس میں جیتنا ویسے ہی کفر کا کام ہوتا۔ اس کے علاوہ چیمپیئنز ٹرافی کا دوسرا راونڈ رمضان المبارک میں کھیلا جانا تھا اس لیے رضوان اور ہماری ٹیم نے سوچا ہو گا کہ میچ تمام دو بجے کے بعد ہونا ہیں اس سے نہ صرف روزے میں بلکہ تراویح نماز میں رکاوٹ آئے گی۔
اب الحمد للہ پوری قوم خشوع و خضوع کے ساتھ رمضان المبارک بھی گزارے گی اور تراویح کا بھی اہتمام کرے گی۔۔ باقی رہی بات پاکستانی ٹیم کی تو عاقب جاوید بتا ہی چکے ہیں کہ ان کے خیال میں جیسن گلپسی کو نہیں معلوم کہ سفیان مقیم اور عرفان نیازی کا کرکٹ میں تجربہ تھوڑا ہے۔ انہوں نے تجربہ کار اور پاکستان میں موجود بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم بنائی ہے۔۔ ایک نہ ایک روز انشا اللہ بابر اعظم اور ہماری ٹیم ضرور پرفارم کرے گی، اس مرتبہ رمضان میں تمام مسلمان اسے بھی دعاوں میں شامل کر لیں کہ اللہ بابر اعظم کو اچھی اننگ کھیلنے کا موقع جلد دے، آمین۔۔ انشا اللہ ایک روز ہم وہ دن ضرور دیکھیں گے۔ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔