اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے کہا ہےکہ جو بہترین آپشن تھے سلیکشن کمیٹی نے کھلائے۔
عاقب جاوید نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بہترین ٹیم سلیکٹ کی تھی لیکن توقعات کے مطابق پرفارمنس نہیں آئی جو ایک حقیقت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ میں کوئی معذرت نہیں ہوتی اور ہر میچ سے پہلے ٹیم پر امید ہوتی ہے، جسے ہم سپورٹ بھی کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ کھلاڑی خود بھی کارکردگی سے افسردہ ہیں۔
قوم کو یہ یقین رکھنا چاہیے کہ ٹیم کی طرف سے پوری کوشش کی جاتی ہے، بھارت اور پاکستان کے میچ میں جذبات مختلف ہوتے ہیں، پاک بھارت میچ کرکٹ سے بڑھ کر ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: راولپنڈی میں مسلسل بارش کے باعث آسٹریلیا اور جنوبی افریقا کا میچ منسوخ، ایک ایک پوائنٹ مل گیا
انہوں نے کہا کہ پاک بھارت میچ کیلئے تجربہ چاہیے ہوتا ہے، بھارت کی ٹیم زیادہ تجربہ کار تھی، ہیڈ کوچ نے کہا کہ ہم بھارت کے خلاف تجربہ کار پلیئرز کی کمی کی وجہ سے ہارے۔
بھارت کے خلاف میچ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان 300 کے قریب اسکور بنا لیتا تو اچھا مقابلہ ہو سکتا تھا۔
ہیڈ کوچ قومی کرکٹ ٹیم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسکلز کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، تمام شعبوں میں بہتری سے ہی میچ جیتا جا سکتا ہے، صائم ایوب اورفخر زمان مثبت اثر ڈالتے ہیں، ان کی غیر موجودگی سے فرق پڑا۔
صائم ایوب اور فخر زمان نہیں ہوتے تو جو آپشن ہوں ان کے ساتھ جاتے ہیں، کچھ پلیئر میچ کیلئے بہت ضروری ہوتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ یہ وہی ٹیم ہے جو آسٹریلیا اور جنوبی افریقا میں بھی کھیلی، طیب طاہر نے زمبابوے اور جنوبی افریفا کیخلاف اچھی بیٹنگ کی۔
عاقب جاوید نے کہا کہ صائم ایوب کی انجری کی وجہ سے خوشدل شاہ کو لانا پڑا، ڈیڑھ سال میں خوشدل شاہ نے بہترین پرفارمنس دی، بالرزکے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ون ڈے کرکٹ میں 5بالرز کے ساتھ نہیں جا سکتے۔
ون ڈے کرکٹ کیلئے 7بیٹر اور 4بالرز کا کمبی نیشن بنانا ہوتا ہے،ہمیں پتہ ہے کہاں کس پلیئر کو فٹ کر سکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ سفیان مستقیم اور عرفان نیازی کا ون ڈے کے حوالے سے ایکسپوژر نہیں تھا۔
ہیڈ کوچ نے بابر اعظم اور شاہین آفریدی کو ٹیم کے سب سے تجربہ کار کھلاڑی قرار دیا اور کہا کہ پاکستان نے اپنی بہترین دستیاب ٹیم میدان میں اتاری تھی، انہوں نے سعود شکیل کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی جگہ محنت سے بنائی۔
انہوں نے کہا کہ ہر بندہ بات کر رہاہے کہ یہ پلیئر کیوں آ گیا،بطور سلیکٹر بہترین پرفارمنس دکھانے والے کو لانا ہو تاہے، سارے شور مچا رہے ہیں کہ سفیان ہوتا پاکستان میچ جیت جاتا، ہم کہہ رہے ہیں کہ سفیان نے صرف ایک میچ کھیلا ہے۔
اس ٹیم میں کوئی پلیئر ایسا نہیں جس نے پرفارمنس نہ دی ہو، سعود شکیل نے ٹیسٹ میچ اور جنوبی افریقا کیخلاف بھی اچھا پرفارم کیا، کامران غلام نے بھی جنوبی افریقا کیخلاف اچھی پرفارمنس دی تھی، ان کا کہنا تھا کہ جو کھیل نہیں رہا یا مینجمنٹ کا حصہ نہیں تو اسے ٹیم کے ہارنے کی وجہ چاہیے۔
ہمیشہ کہا جاتاہے کہ ٹیم ہاری اسے تبدیل کر دیں، ہم اس لیے نہیں ہارے کہ بھارت کو پچ کا فائدہ تھا، ہمارے لیے دبئی کی پچ نئی نہیں تھی، عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ ہم ہوم گراؤنڈ پر بھی پرفارم نہیں کر سکتے