راوندرا کاوشک، جو “بلیک ٹائیگر” کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، ایک ہندوستانی تحقیقاتی اور تجزیاتی ایجنسی (R&AW) کے جاسوس تھے۔ انہوں نے 1975 سے 1983 تک پاکستان میں بھارتی مفادات کے لیے جاسوسی کی۔ وہ پاکستان کی فوج میں افسر بنے اور وہاں سے بھارتی حکومت کو قیمتی معلومات فراہم کرتے رہے۔
زندگی کا آغاز: راوندرا کاوشک 11 اپریل 1952 کو بھارت کے شہر سری گنگا نگر، راجستھان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جے ایم کاوشک بھارتی فضائیہ کے افسر تھے اور ان کی والدہ کا نام املا دیوی تھا۔ راوندرا نے ایس ڈی بھیانی پی جی کالج، سری گنگا نگر سے بی کام کی ڈگری حاصل کی۔ دورانِ کالج وہ تھیٹر میں حصہ لیتے تھے اور مباحثوں میں بھی شریک رہتے تھے۔
تحقیقاتی ایجنسی میں شمولیت: راوندرا کاوشک کو 1975 میں R&AW میں بھرتی کیا گیا۔ ان کی تربیت دہلی میں کی گئی، جہاں انہیں پاکستان میں چھپ کر رہنے کی تربیت دی گئی، اور اردو زبان سکھائی گئی۔ ان کی مہارت کی وجہ سے انہیں پاکستان بھیجا گیا۔ 23 سال کی عمر میں انہوں نے پاکستان میں قدم رکھا۔
پاکستان میں سرگرمیاں: راوندرا نے اسلام قبول کیا، اور ان کا نام “نبی احمد شکیر” رکھا گیا۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے پاکستان کی فوج میں کمیشنڈ آفیسر کے طور پر شمولیت اختیار کی اور بعد میں میجر کے عہدے تک پہنچے۔ اس دوران وہ بھارت کے لیے قیمتی معلومات فراہم کرتے رہے۔
دورِ اسیری اور وفات: 1983 میں راوندرا کاوشک کا راز فاش ہوگیا اور انہیں پاکستانی انٹیلی جنس ادارے (ISI) نے گرفتار کرلیا۔ انہیں سیاہ کوٹ میں دو سال تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بعد میں انہیں 1985 میں سزائے موت سنائی گئی، جو بعد میں عمر قید میں تبدیل کر دی گئی۔ وہ مختلف جیلوں میں رہے اور 16 سال تک پاکستان کے مختلف جیلوں میں قید رہے۔
راوندرا کاوشک کی حالت انتہائی خراب تھی اور وہ بیماریوں کا شکار رہے۔ 2001 میں وہ جیل میں ریکارڈ کے مطابق پلمونری ٹی بی اور دل کی بیماری کے باعث انتقال کرگئے۔
خاندان اور ورثہ: راوندرا کاوشک کے خاندان کا کہنا ہے کہ بھارت کی حکومت نے ان کی مدد کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔ ان کے خاندان نے 2012 میں ریلیز ہونے والی بالی ووڈ فلم “ایک تھا ٹائیگر” کے اسکرپٹ کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ یہ فلم ان کی زندگی پر مبنی ہے، تاہم فلم کے ڈائریکٹر کبیر خان نے اس دعوے کو مسترد کیا۔
راوندرا کاوشک کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، اور انہیں بھارتی جاسوسی تاریخ میں ایک عظیم شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔