اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) سندھ یونائٹڈ پارٹی کے صدر سید زین العابدین شاہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سندھ کے پانی کے مسئلے پر ایک سازش کے تحت سودا کر لیا ہے جس کے نتیجے میں سندھ کو بنجر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور پنجاب کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں سندھ کے لوگ پانی کی کمی کے باعث مہاجر بننے پر مجبور ہو جائیں گے۔
سید زین العابدین شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ ہمیشہ سے پانی کی کمی کا شکار رہا ہے، اور حالیہ معاہدے میں کی جانے والی ترامیم فیڈریشن کے خلاف ہیں، جس سے سندھ پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت اور بندوق کے زور پر فیصلے نہیں منوائے جا سکتے، بلکہ سندھ کے عوام انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں، نہ کہ بھیک۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کا جو پانی ہے، وہ ہمیں دیا جائے، ورنہ آئندہ نسلوں میں محبت کی جگہ نفرتیں بڑھیں گی۔ سید زین العابدین شاہ نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں پارٹی کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری رمضان سومرو کے ہمراہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ پانی کے مسئلے پر پنجاب اور سندھ کے درمیان تنازعات ہمیشہ سے موجود ہیں، اور یہ سلسلہ قیام پاکستان سے بھی قبل شروع ہو چکا تھا۔ 28 جولائی کو سندھ پر ایک بڑا بم گرا، جب اعلان کیا گیا کہ دریائے سندھ پر چھ نئے کینال بنائے جائیں گے، جس سے سندھ بھر میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی اور احتجاجی تحریکیں شروع ہو گئیں۔
سید زین العابدین شاہ نے کہا کہ ڈیلٹا کسی بھی علاقے کے لیے ایک خزانے کی مانند ہوتا ہے، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں یہ ڈیلٹا اجڑا ہوا ہے۔ حکومت کے مطابق 13 لاکھ ایکڑ زمین دریا برد ہو چکی ہے، جبکہ حقیقت میں یہ 30 لاکھ ایکڑ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر نئے کینال بنائے گئے تو سندھ کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوں گی اور 35 لاکھ ایکڑ زمین پہلے ہی ضائع ہو چکی ہے، اور اگلے مراحل میں 80 لاکھ ایکڑ زمین مزید تباہ ہو جائے گی، جس سے سندھ بنجر ہو جائے گا۔
سید زین العابدین شاہ نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا رویہ تبدیل کرے اور سندھ کے جائز حقوق کا احترام کرے، کیونکہ طاقت کے ذریعے فیصلے منوانے سے وفاق کے لیے مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں اور اتحاد کو خطرہ ہو سکتا ہے۔