جمعرات,  01 جنوری 2026ء
جیتا ہوا میچ کیسے ہارا جاتا ہے، یہ کوئی پاکستان سے سیکھے،پاکستانی شائقین ٹیم پر برہم

نیویارک(روشن پاکستان نیوز)انگریزی میں ایک لفظ ’ڈیجاوو‘ ہے جس کا مطلب ہے کہ جو ابھی ہو رہا ہے شاید وہ ہم ماضی میں بھی دیکھ چکے ہیں۔

ایسا ہی گذشتہ روز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سب سے بڑے میچ میں دیکھنے کو ملا جب انڈیا نے پاکستان کو چھ رنز سے شکست دے دی۔ پاکستان کو جیت کے لیے 120 رنز درکار تھے تاہم پاکستان سات وکٹوں کے نقصان پر صرف 113 رنز بنا سکا۔

یہ میچ نیو یارک کی ایک ایسی پچ پر کھیلا گیا میچ تھا جہاں بلے بازوں کے لیے سکور کرنا بہت مشکل تھا۔ ایسے میں پاکستانی بیٹرز شاید صحیح موقع پر جارحانہ انداز اپنانے میں ناکام رہے اور یوں صرف چھ رنز سے شکست کھا بیٹھے۔

امریکہ کے شہر نیویارک میں روایتی حریف انڈیا اور پاکستان کے میچ کا چرچا ورلڈ کپ کے شیڈیول کے ساتھ ہی ہونا شروع ہو گیا تھا اور دنیا بھر سے شائقین نے نو جون کو ہونے والے اس مقابلے کے لیے سٹیڈیم کو بھر دیا تھا۔

اس میچ میں پاکستان کے لیے جتنی اچھی باتیں ہو سکتی تھیں سب ہوئیں، میچ سے پہلے بارش ہوئی، پاکستان نے ٹاس جیتا، انڈیا کو مقررہ 20 اوورز میں 119 رنز پر آل آؤٹ کر دیا، بابر اور رضوان کے کیچز بھی چھوٹے اور چھوٹے سے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے 13 اوورز میں پاکستان نے دو وکٹوں کے نقصان پر 71 رنز بھی بنا لیے لیکن پھر بھی گرین شرٹس یہ میچ نہیں جیت سکے۔

سوشل میڈیا پر صارفین کا کہنا ہے کہ ’جیتا ہوا میچ کیسے ہارا جاتا ہے، یہ کوئی پاکستان سے سیکھے۔‘

ایسا ایک بار پہلے بھی ہو چکا ہے جب ایک روزہ میچ میں پاکستان کا دبدبہ تھا اور شارجہ کا گراؤنڈ پاکستانی کرکٹ کی جنت سمجھا جاتا تھا۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے کہاکہ آخر ایسا کیونکر ہو سکتا ہے۔ کچھ نہ کچھ تو گڑبڑ ہے۔ کوئی جیتا ہوا میچ کیسے ہار سکتا ہے۔ میچ پریڈکشن میں انڈیا کی جیت کے امکانات صرف آٹھ فیصد دکھائے جا رہے تھے اور آپ کو 49 گیندوں پر 49 رنز بنانے تھے، آپ کے پاس آٹھ وکٹیں تھیں اور آپ نہ بنا سکے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ایسے ناممکنات تو پاکستان ہی کر سکتا ہے۔ اس سے قبل بھی جب انڈیا کو تین اوورز میں 48 رنز درکار تھے تو وراٹ کوہلی نے وہ کارنامہ انجام دیا تھا۔ آج بھی آپ انڈیا کی ٹیم کو اتنے رنز بنانے کو کہیں تو وہ سو میں سے 98 بار ناکام ہو جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ ’ابھی جو کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے بیان دیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے۔ جب نسیم شاہ جیسا بچہ (میں تو اسے بچہ ہی کہتا ہوں) دو چوکے لگا سکتا ہے تو افتخار احمد اور عماد وسیم جیسے تجربہ کار آل راؤنڈر کیسے رنز نہیں بنا سکتے۔ ویسے تو پی ایس ایل میں یہ سب لمبے لمبے چھکے لگاتے ہیں لیکن ایسا لگتا یہاں انھیں جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ یہ کارنامہ صرف پاکستانی ٹیم ہی انجام دے سکتی ہے،اس طرح کا میچ ہارنے کے لیے سپیشل کوشش درکار ہوتی لیکن پاکستان نے کسی طرح یہ کارنامہ انجام دے ہی دیا۔

محمد عمر نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’پاکستان صرف خراب بیٹنگ آرڈر، بیمار ذہنیت والے کوچنگ سٹاف اور کپتان کی وجہ سے ہارا۔ یہاں افتخار یا عماد کی کوئی غلطی نہیں۔ افتخار بیچارے کو سکور کرنے کا موقع ہی نہیں مل رہا ہے۔

سلمان رضا نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’ہمارے پاس مڈل آرڈر میں کوئی بھی مضبوط بلے باز نہیں ہے، کس نے بغیر مڈل آرڈر یا بغیر آل راؤنڈر کے ٹیم کا انتخاب کیا ہے؟

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ کیا کوئی مجھے یاد دلا سکتا ہے کہ بابر اعظم نے پاکستان کے لیے آخری بار کب ڈیلیور کیا تھا؟ اپنے ذاتی ریکارڈ بنانے کے لیے نہیں بلکہ ملک کے لیے بڑے میچ میں ڈیلیور کرنے کے لیے؟ ہمارے باؤلرز نے 120 رنز کا ہدف سیٹ کیا اور بلے بازوں کی طرف سے کیے جانے والے گند کو دیکھیں… یہ لوگ کرکٹ کو دیکھنے میں اتنا تکلیف دہ کیوں بناتے ہیں؟‘

وقارنامی ایک صارف کہتے ہیں کہ ’ٹاس جیتنے، انڈین بیٹنگ ڈھہ جانے، 120 بال میں 120 رنز بنانے، رضوان اور بابر کو ایک، ایک زندگی چانس ملنے، 11 ویں نمبر تک بیٹنگ کی صلاحیت کے باوجود پاکستان ہمیشہ کی طرح انڈیا سے پِٹ گیا۔‘

عبداللہ حماد اپنی رائے دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہماری ڈرپوک بیٹنگ اپروچ کی واحد وجہ بابر اعظم ہے۔ یہ رضوان اور افتخار جیسے لوگوں کا دفاع کرتا ہے۔‘

شاہ زیب علی نے سابق کرکٹر سلمان بٹ کا تبصرہ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’پاکستان ہمیشہ میچ ہارنے کے راستے تلاش کر لیتا ہے۔ رضوان کا صرف ایک کام تھا کہ انھیں آخر تک بیٹنگ کرنی تھی۔‘

مانی سلمان نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’انڈیا سے پاکستان نہیں جیت سکتا، یہ بات مان لینی چاہیے۔ ہیمشہ کی طرح ہدف کا خراب تعاقب۔ آج بہت سے سستے آل راؤنڈرز کے کریئر ختم ہوں گے، عماد، افتخار، شاداب نام کے آل راؤنڈرز۔ قصہ مختصر کہ ہم انڈیا سے نہیں جیت سکتے۔‘

مزید خبریں