حکومت سے بجٹ میں غریب عوام کی شدید ضروریات دور کرنے کا مطالبہ۔ سابق وزیر داخلہ سینیٹر رحمان ملک.

اسلام آباد ( اسٹاف رپورٹر )سابق وزیر داخلہ اور چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ریفارمز (IRR) سینیٹر اے رحمان ملک نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ عوام دوست اور غریب کے حق میں بجٹ پیش کرے اور غریب کی شدید مشکلات کو مدنظر رکھا جائے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں افراط زر کی 14 فیصد شرح کے ساتھ غربت کی شرح میں 30 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور 80.5 ملین افراد غربت کی لکیر کے کنارے کھڑے ہیں جس کی وجہ سے غریب خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اہداف پر نظرثانی اور شرائط کو آسان بنانے کے لئے آئی ایم ایف سے مذاکرات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بجٹ خسارے میں 1 فیصد کمی اور ترقیاتی اخراجات میں 20 فیصد اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 75 فیصد اضافہ کیا جائے اور حکومت پرائیویٹ اور روزانہ اجرت والے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے لئے خصوصی پیکیج کا اعلان کرے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ کورونا کی وجہ سے ملازمت سے محروم ہوگئے ہیں انکو اپنے چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے قابل بنانے کے لئے آسان اقساط پر قرضوں کے مختلف اسکیموں کا اعلان کیا جائے۔ رحمان ملک نے کہا کہ کورونا کے مریضوں کے علاج کے لئے اسپتالوں اور طبی مراکز کی تعمیر اور جدید طبی آلات کی خریداری کے لئے خصوصی فنڈز مختص کیجائے۔ انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی تنخواہوں میں 75 فیصد تک اضافہ کیا جائے۔سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ چھوٹے کاشتکاروں کو امداد فراہم کیجائے اور زرعی ٹیکس پر ریلیف پیکیج دیا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ پیداوار میں اضافے اور زرعی کاشتکاری کو جدید بنانے کے لئے خصوصی زرعی فنڈز کا اعلان کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو پانی کے تحفظ کے قومی پروگرام کے طور پر ہر ضلع میں بارش کے پانی کے ذخائر کے انتظام کے لئے مزید فنڈز مختص کرنے چاہئیں۔
انہوں نے تجویز پیش کی کہ آن لائن تعلیم کے پروگراموں اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے لئے بجٹ بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ہوا بازی کے شعبے میں بہتری اور ایئرپورٹ کو اپ گریڈ کرنے کے لئے فنڈز مختص کرنے کی ضرورت ہے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہتری کے لئے انکے بجٹ کو دوگنا کرنا چاہئے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایف آئی اے اور پولیس کو تحقیقات کے جدید آلات اور لاجسٹکس کی فراہمی کے کئے انکے بجٹ میں میں خاطر خواہ اضافہ وقت کی ضرورت ہے۔
رحمان ملک نے کہا کہ جیلوں کو اپ گریڈ کرنے کے لئے حکومت ہر ایک صوبے کے لئے 5 ارب روپے مختص کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہاؤسنگ بلڈنگ کارپوریشنوں کے ذریعہ سستی رہائشی سکیموں کے لئے حکومت کو آسان قرضوں کی مالی اعانت کرنا ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں