

دوحرف/رشید ملک اندھیرے کا دیوتا انسانوں کو گمراہیوں اور جہالتوں کے گہرے کنوؤں میں مبحوسیت کیلئے تدبیر کر چکا صحیفوں کے نزول کو بے حیا کرنے کیلئے لکھنے پڑھنے اور بولنے، جاننے کی بنیادی فطری نعمت پر قدغن کا عذاب اتار دیا گیا۔ عذاب کیا ہے بے حسی ہے طاقت

آج پھر میں اور میرا دوست ایک پارک کی بنچ پر بیٹھے تھے۔ مانچسٹر میں آج بارش کے بعد ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی، مگر دل عجیب بوجھل تھا۔ اچانک اس نے پوچھا: “ندیم! بتاؤ، 14 اگست کس کی ہے؟” میں نے مسکرا کر جواب دیا: “پاکستان کی۔” وہ

پاکستان اور بھارت دونوں سال 1947 میں 14 اور 15 اگست کو آذاد ہوئے ۔ آذادی کے صرف دو سال بعد بھارت نے اپنا آئین بنا لیا اور اس کو نافذ کر دیا جس کے تحت بھارت کو ایک پارلیمانی جمہوری نظام دیا گیا اور 1950 سے لے کر

آج میڈیا ٹاون سے اسلام آباد آتے ہوئے بس میں کمال رش تھا۔۔ جب کنڈیکٹر نے کرایہ مانگا تو مجھے سٹیج ڈرامے میں نسیم وکی کا ڈائیلاگ یاد آ گیا کہ ہم دوبئی میں ایک کمرے میں کئی دوست سوتے ہیں بستر اوپر نیچے ہوتے ہیں تو نیچے والا جو

آج صبح سینئر صحافی اور بڑے بھائیوں جیسے دوست محترم جمیل مرزا کی فیس بک وال پر ایک پوسٹ پڑھی، پوسٹ کیا ہے پولیس کھلی کچہری میں اپنے دبنگ فیصلوں سے نام بنانے والے احمد محی الدین کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا نوحہ ہے۔ بلاشبہ آپ کو افسوس ضرور

کرنیلیاں ارے بھائی یہ اے آئی ہے!!! `نام نہاد اے آئی ماہرین کے بارے میں ایک شگفتہ تحریر` ایک عہد تھا جب کسی خبر کی تردید کے جواب میں صرف اتنا کہہ دینا کافی سمجھا جاتا تھا کہ یہ محض پروپیگنڈے کا جال ہے اور کچھ نہیں۔ وہ پرنٹ میڈیا

مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے 2024 کے عام انتخابات میں بالترتیب 75 اور 54 نشستیں حاصل کی تھیں ۔ اس وقت تحریک انصاف نے ان انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگائے اور وہ اب تک موجودہ مرکزی حکومت کو فارم 47 کی حکومت کہتی ہے ۔ انتخابات میں

میرے دوست نے موبائل میرے سامنے رکھا۔ اسکرین پر آزاد کشمیر کے انتخابات کی خبریں چل رہی تھیں۔ ایک خبر میں بتایا جا رہا تھا کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر پولنگ بوتھ کو آگ لگا دی گئی۔ دوسری خبر میں کہا گیا کہ ایل اے 6 بھمبر سماہنی کے پولنگ

تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ او کے چاچا، تھینک یو انکل ، ٹھیک ہے بابا جی ۔ آج میں آپ سے اپنی معاشرتی، سماجی اور سیاسی، امن و امان اور ملکی تجارتی خسارے سے ہٹ کر بات کروں گا اور یہ ایک ایسا خسارہ ہے جو مجھے ان

تحریر: سید شہریار احمد ایڈو کیٹ ہائی کورٹ میں کہاں ہوں؟ کیا یہ بستر مرگ ہے؟ میری نظروں کے بالکل سامنے سفید دیوار ہے۔ اپنی آنکھوں کو ہلکی سی دائیں بائیں جنبش دے کے دیکھ سکوں تو وہ بھی سفید دیواریں ہیں، لڑکے اور لڑکیاں جو تھوڑی تھوڑی دیر کے