








ایک زمانہ تھا کہ ہم بھی یوم آزادی بڑے جوش وخروش سے منایا کرتے تھے کیونکہ اس وقت تک ہمارا یہ خیال تھا کہ یہ ملک تو ہمارا ہے جس کو ہمارے بڑوں نے لاتعداد قربانیاں دے کر ہمارے لیے آذاد کروایا ہے لہذا 14 اگست کو جتنی بھی خوشی

ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ میں نے اپنے دوست سے پوچھا: یار ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی۔” وہ مسکرایا اور بولا: تمہیں سمجھ میں آ جائے تو پھر تم سوال کرنا چھوڑ دو گے، اور جس دن تم نے سوال کرنا چھوڑ دیا، شاید تمہارا کالم بھی

تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ کچھ ڈھنگ کی بات سمجھ لو آج پھر میں کچھ گہری باتیں کہنے آیا ہوں اور وہ یہ کہ جس نے بھی تمہارا دل توڑا ہے، جس نے بھی تمہیں سمجھنے کی بجائے، تمہاری محبتوں، تمہاری قربانیوں کے سامنے اپنی مرضی کو ہی

تحریر: داؤد درانی یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ ہمارے ملک میں جب کبھی کوئی اہم بات ہوتی ہے اور اسے انکشاف سمجھا جاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ عام پاکستانیوں کو تو اس کا بہت پہلے سے علم ہے لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ نقار خانے میں

دوحرف/رشید ملک اندھیرے کا دیوتا انسانوں کو گمراہیوں اور جہالتوں کے گہرے کنوؤں میں مبحوسیت کیلئے تدبیر کر چکا صحیفوں کے نزول کو بے حیا کرنے کیلئے لکھنے پڑھنے اور بولنے، جاننے کی بنیادی فطری نعمت پر قدغن کا عذاب اتار دیا گیا۔ عذاب کیا ہے بے حسی ہے طاقت

آج پھر میں اور میرا دوست ایک پارک کی بنچ پر بیٹھے تھے۔ مانچسٹر میں آج بارش کے بعد ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی، مگر دل عجیب بوجھل تھا۔ اچانک اس نے پوچھا: “ندیم! بتاؤ، 14 اگست کس کی ہے؟” میں نے مسکرا کر جواب دیا: “پاکستان کی۔” وہ

پاکستان اور بھارت دونوں سال 1947 میں 14 اور 15 اگست کو آذاد ہوئے ۔ آذادی کے صرف دو سال بعد بھارت نے اپنا آئین بنا لیا اور اس کو نافذ کر دیا جس کے تحت بھارت کو ایک پارلیمانی جمہوری نظام دیا گیا اور 1950 سے لے کر

آج میڈیا ٹاون سے اسلام آباد آتے ہوئے بس میں کمال رش تھا۔۔ جب کنڈیکٹر نے کرایہ مانگا تو مجھے سٹیج ڈرامے میں نسیم وکی کا ڈائیلاگ یاد آ گیا کہ ہم دوبئی میں ایک کمرے میں کئی دوست سوتے ہیں بستر اوپر نیچے ہوتے ہیں تو نیچے والا جو

آج صبح سینئر صحافی اور بڑے بھائیوں جیسے دوست محترم جمیل مرزا کی فیس بک وال پر ایک پوسٹ پڑھی، پوسٹ کیا ہے پولیس کھلی کچہری میں اپنے دبنگ فیصلوں سے نام بنانے والے احمد محی الدین کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا نوحہ ہے۔ بلاشبہ آپ کو افسوس ضرور

کرنیلیاں ارے بھائی یہ اے آئی ہے!!! `نام نہاد اے آئی ماہرین کے بارے میں ایک شگفتہ تحریر` ایک عہد تھا جب کسی خبر کی تردید کے جواب میں صرف اتنا کہہ دینا کافی سمجھا جاتا تھا کہ یہ محض پروپیگنڈے کا جال ہے اور کچھ نہیں۔ وہ پرنٹ میڈیا