








کرنیلیاں ارے بھائی یہ اے آئی ہے!!! `نام نہاد اے آئی ماہرین کے بارے میں ایک شگفتہ تحریر` ایک عہد تھا جب کسی خبر کی تردید کے جواب میں صرف اتنا کہہ دینا کافی سمجھا جاتا تھا کہ یہ محض پروپیگنڈے کا جال ہے اور کچھ نہیں۔ وہ پرنٹ میڈیا

مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے 2024 کے عام انتخابات میں بالترتیب 75 اور 54 نشستیں حاصل کی تھیں ۔ اس وقت تحریک انصاف نے ان انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگائے اور وہ اب تک موجودہ مرکزی حکومت کو فارم 47 کی حکومت کہتی ہے ۔ انتخابات میں

میرے دوست نے موبائل میرے سامنے رکھا۔ اسکرین پر آزاد کشمیر کے انتخابات کی خبریں چل رہی تھیں۔ ایک خبر میں بتایا جا رہا تھا کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر پولنگ بوتھ کو آگ لگا دی گئی۔ دوسری خبر میں کہا گیا کہ ایل اے 6 بھمبر سماہنی کے پولنگ

تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ او کے چاچا، تھینک یو انکل ، ٹھیک ہے بابا جی ۔ آج میں آپ سے اپنی معاشرتی، سماجی اور سیاسی، امن و امان اور ملکی تجارتی خسارے سے ہٹ کر بات کروں گا اور یہ ایک ایسا خسارہ ہے جو مجھے ان

تحریر: سید شہریار احمد ایڈو کیٹ ہائی کورٹ میں کہاں ہوں؟ کیا یہ بستر مرگ ہے؟ میری نظروں کے بالکل سامنے سفید دیوار ہے۔ اپنی آنکھوں کو ہلکی سی دائیں بائیں جنبش دے کے دیکھ سکوں تو وہ بھی سفید دیواریں ہیں، لڑکے اور لڑکیاں جو تھوڑی تھوڑی دیر کے

اسرائیل جو چاہتا تھا اب وہی کچھ ہونے جا رہا ہے ۔ اسرائیل چاہتا تھا کہ اسلامی ممالک ایک دوسرے سے لڑ کر کمزور ہوں تاکہ اسرائیل کو کھل کر کھیلنے کا موقع مل سکے ۔ جب امریکہ اور ایران کی لڑائی شروع ہوئی تو امید اس بات کی تھی

تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ آئیے اشرف المخلوقات سے ملتے ہیں۔ چلئے آج آپ کو میں اشرف المخلوقات سے ملاتا ہوں۔ ہم بنی نو انسان کو دو حصوں میں بانٹتے ہیں۔ ایک وہ جو مسلمان ہیں اور دوسرے وہ جو دائرہ اسلام میں نہیں ہیں یا تو ان

وفاقی وزیر پانی و بجلی جناب اویس لغاری نے ایک نئی پھلجڑی چھوڑی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی سولر انرجی کی وجہ سے واپڈا تکنیکی اور انتظامی مسائل کا شکار ہو رہا ہے ۔ بالفاظ دیگر وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ملک میں

تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ ( میں جس کی چاہے زندگی برباد کر دوں) جی ہاں میں نے بالکل ٹھیک لکھا اور آپ نے بالکل ٹھیک پڑھا ہے۔ میں جس کی چاہے زندگی برباد کر سکتا ہوں اور یہ ایک محض دعوی نہیں ہے، یہ سب میں جب

آج پارک میں بچوں کو مٹی کے ساتھ کھیلتے دیکھا تو نہ جانے کیوں اپنا بچپن یاد آ گیا۔ وہ بچپن، جب مٹی صرف زمین نہیں ہوتی تھی بلکہ ہماری دنیا ہوتی تھی۔ اسی مٹی سے گھر بنتے تھے، راستے بنتے تھے، کھانے پکائے جاتے تھے، قلعے تعمیر ہوتے تھے