








دوحرف/رشید ملک نئے سال کی آمد پر دنیا بھر میں جشن اور چراغاں بڑے جوش و خروش سے کیا گیا برقی قمقموں کی چکا چوند میں یوں لگ رہا تھا کہ پوری دنیا پر بقعہ نور اتر آیا ہے۔ دنیا خوشیوں اور شدمانیوں کی لہروں پر عازم موج و مستی

سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ ہزاروں سالوں کی دانش کہتی ہے کہ دنیا کو کبھی خوش کرنے کی کوشش مت کرو کیونکہ جب تم دنیا کو خوش کرنے چلتے ہو تو پھر خود کو بھلا دیتے ہو اور تم خود کہیں کھو جاتے ہو۔ ایک دن تم بہت پچھتاؤ

تحریر: عدیل آزاد پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ محض سیاست دان نہیں رہتیں بلکہ ایک علامت بن جاتی ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹوؒ بھی ایسی ہی ایک شخصیت تھیں جن کی زندگی اقتدار کے ایوانوں سے زیادہ جیل کی کوٹھڑیوں،

تحریر: عدیل آزاد عمران خان کی حکومت کی آئینی برطرفی کے بعد میرا نقطۂ نظر ابتدا ہی سے واضح رہا ہے کہ عمران خان کی سیاسی واپسی کسی عوامی تحریک کا نتیجہ نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے بعض حلقوں کی ناقص منصوبہ بندی اور غیر ضروری سخت اقدامات کی پیداوار ہے۔

سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ مختلف شہروں میں بہار کے وزیراعلی کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ ایک بڑا مظاہرہ اسلام آباد میں سول سوسائٹی کے رہنما عزت خان کی قیادت میں ہوا چند روز قبل بہار کے وزیراعلیٰ نے تقریب تقسیم اسناد میں ایک مسلمان طالبہ جو اسلامی

دو حرف/ رشید ملک مخصوص لوگ محدود حصوں اور گروپوں میں بات اور محدود کلام کرتے ہیں کیونکہ ان کی بات عام نہیں ہوتی اور وہ عام آدمی کا سامنا نہیں کر سکتے ایسا اس لیئے ہوتا ہے کہ ایک تو وہ خود کو بہت ایلیٹ یعنی اشرافیہ سمجھتے ہیں

میں اور میرا دوست اکثر چائے پر دنیا کے بڑے مسئلوں پر ایسے گفتگو کرتے ہیں جیسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل ہمارے اشارے کی منتظر ہو۔ اُس دن بات بالی ووڈ کی فلم دھورندر سے شروع ہوئی۔ جس پر کہا جا رہا تھا کہ اسے پاکستان کو بدنام کرنے

تحریر: ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی سینیٹ کے حالیہ اجلاس میں گرفتار، نظربند اور زیرِ حراست افراد سے تفتیش سے متعلق بل، فیٹل ایکسیڈنٹس (ترمیمی) بل 2024 اور لمیٹڈ لائیبیلیٹی پارٹنرشپ (ترمیمی) بل متفقہ طور پر منظور ہوئے۔ یہ اتفاقِ رائے اس بات کی علامت ہے کہ پارلیمان بعض بنیادی

سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ صرف ایک غلط فیصلہ بھگوان اک قصور کی اتنی بڑی سزا دنیا تیری یہی ہے تو دنیا سے میں چلا صرف ایک غلط فیصلہ تمہاری زندگی برباد کر سکتا ہے صرف ایک غلط فیصلہ۔ انڈین ورسٹائل اداکار نانا پاٹیکر کا ایک ڈائیلاگ بہت مشہور

تحریر: ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی صوبہ خیبر پختونخوا کی سیاست ہمیشہ مرکز اور صوبے کے تعلقات کے گرد گردش کرتی رہی ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی خودمختاری بڑھی، مگر وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی تناؤ ختم نہ ہو سکا۔ صوبہ خیبرپختونخوا خاص طور پر سیکیورٹی، مالی وسائل