








دو حرف / رشید ملک میں کسی رنج و الم میں روتے ہوئے دیدہ نم سے جو قطرے گراتا تھا وہ جواہرات گراں قدر یاقوت وصدف بنتے تھے مگر یہ کیا کہ آج اتنی بے بسی ہے انکھ کا پانی خشک ہو چکا ہے چشم نم کی یہ خشکی ایک

کالم: میں اور میرا دوست ( بسنت) زندگی میں کئی موضوع ایسے ہوتے ہیں جن پر دوستوں کے درمیان اختلاف بھی ہوتا ہے اور دلچسپ گفتگو بھی۔ بسنت بھی میرے اور میرے دوست کے درمیان ایسا ہی ایک موضوع ہے۔ وہ بسنت کا زبردست حامی ہے جبکہ میں ہمیشہ اس

تحریر: عدیل آزاد کچھ واقعات تاریخ میں اس لیے یاد رکھے جاتے ہیں کہ وہ صرف قانون کو نہیں بلکہ انسانی ضمیر کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں۔ ایپسٹین فائلز بھی انہی واقعات میں سے ایک ہیں۔ یہ معاملہ محض چند طاقتور افراد کے جرائم کا نہیں، بلکہ

تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ یہ خدا ہے یا پولیس ؟ ڈرتے کیوں ہو آج میں تمہیں ایک بہت ہی کڑوی مگر ضروری بات بتانے جاتا ہوں تم لوگ خواہ کسی بھی مذہب سے ہو، تم ہندو ہو عیسائی ہو یا مسلمان تم لوگ کہتے ہو کہ تم

دوستی محض وقت گزارنے کا نام نہیں ہوتی، یہ خیال کی ہم سفری، فکر کی ہم آہنگی اور دل کی ہم کلامی کا نام ہے۔ کچھ دوست ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ گفتگو محض بات چیت نہیں رہتی بلکہ ایک فکری سفر بن جاتی ہے۔ میرا ایک ایسا ہی

کمرسر کی افق سے تحریر: محمد مدثر حسین خٹک شاعر حضرات کہتے ہیں کہ برسات کا موسم رومانوی ہوتا ہے، بادلوں کا امڈ آنا دلوں میں خوشی کی لہر دوڑا دیتا ہے۔ لیکن اگر آپ کو اس شاعری کا اصل “بھیانک” رخ دیکھنا ہو تو کبھی برسات کے موسم میں

کمرسر کے افق سے تحریر: محمد مدثر حسین خٹک (ای میل: mudasserhussain890@gmail.com) آج جب ہم اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں سانس لے رہے ہیں، دنیا ایک “گلوبل ولیج” کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار کا یہ عالم ہے کہ انسان چاند سے آگے مریخ

دوحرف/رشید ملک نئے سال کی آمد پر دنیا بھر میں جشن اور چراغاں بڑے جوش و خروش سے کیا گیا برقی قمقموں کی چکا چوند میں یوں لگ رہا تھا کہ پوری دنیا پر بقعہ نور اتر آیا ہے۔ دنیا خوشیوں اور شدمانیوں کی لہروں پر عازم موج و مستی

سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ ہزاروں سالوں کی دانش کہتی ہے کہ دنیا کو کبھی خوش کرنے کی کوشش مت کرو کیونکہ جب تم دنیا کو خوش کرنے چلتے ہو تو پھر خود کو بھلا دیتے ہو اور تم خود کہیں کھو جاتے ہو۔ ایک دن تم بہت پچھتاؤ

تحریر: عدیل آزاد پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ محض سیاست دان نہیں رہتیں بلکہ ایک علامت بن جاتی ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹوؒ بھی ایسی ہی ایک شخصیت تھیں جن کی زندگی اقتدار کے ایوانوں سے زیادہ جیل کی کوٹھڑیوں،