








دوستی محض وقت گزارنے کا نام نہیں ہوتی، یہ خیال کی ہم سفری، فکر کی ہم آہنگی اور دل کی ہم کلامی کا نام ہے۔ کچھ دوست ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ گفتگو محض بات چیت نہیں رہتی بلکہ ایک فکری سفر بن جاتی ہے۔ میرا ایک ایسا ہی

کمرسر کی افق سے تحریر: محمد مدثر حسین خٹک شاعر حضرات کہتے ہیں کہ برسات کا موسم رومانوی ہوتا ہے، بادلوں کا امڈ آنا دلوں میں خوشی کی لہر دوڑا دیتا ہے۔ لیکن اگر آپ کو اس شاعری کا اصل “بھیانک” رخ دیکھنا ہو تو کبھی برسات کے موسم میں

کمرسر کے افق سے تحریر: محمد مدثر حسین خٹک (ای میل: mudasserhussain890@gmail.com) آج جب ہم اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں سانس لے رہے ہیں، دنیا ایک “گلوبل ولیج” کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار کا یہ عالم ہے کہ انسان چاند سے آگے مریخ

دوحرف/رشید ملک نئے سال کی آمد پر دنیا بھر میں جشن اور چراغاں بڑے جوش و خروش سے کیا گیا برقی قمقموں کی چکا چوند میں یوں لگ رہا تھا کہ پوری دنیا پر بقعہ نور اتر آیا ہے۔ دنیا خوشیوں اور شدمانیوں کی لہروں پر عازم موج و مستی

سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ ہزاروں سالوں کی دانش کہتی ہے کہ دنیا کو کبھی خوش کرنے کی کوشش مت کرو کیونکہ جب تم دنیا کو خوش کرنے چلتے ہو تو پھر خود کو بھلا دیتے ہو اور تم خود کہیں کھو جاتے ہو۔ ایک دن تم بہت پچھتاؤ

تحریر: عدیل آزاد پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ محض سیاست دان نہیں رہتیں بلکہ ایک علامت بن جاتی ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹوؒ بھی ایسی ہی ایک شخصیت تھیں جن کی زندگی اقتدار کے ایوانوں سے زیادہ جیل کی کوٹھڑیوں،

تحریر: عدیل آزاد عمران خان کی حکومت کی آئینی برطرفی کے بعد میرا نقطۂ نظر ابتدا ہی سے واضح رہا ہے کہ عمران خان کی سیاسی واپسی کسی عوامی تحریک کا نتیجہ نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے بعض حلقوں کی ناقص منصوبہ بندی اور غیر ضروری سخت اقدامات کی پیداوار ہے۔

سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ مختلف شہروں میں بہار کے وزیراعلی کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ ایک بڑا مظاہرہ اسلام آباد میں سول سوسائٹی کے رہنما عزت خان کی قیادت میں ہوا چند روز قبل بہار کے وزیراعلیٰ نے تقریب تقسیم اسناد میں ایک مسلمان طالبہ جو اسلامی

دو حرف/ رشید ملک مخصوص لوگ محدود حصوں اور گروپوں میں بات اور محدود کلام کرتے ہیں کیونکہ ان کی بات عام نہیں ہوتی اور وہ عام آدمی کا سامنا نہیں کر سکتے ایسا اس لیئے ہوتا ہے کہ ایک تو وہ خود کو بہت ایلیٹ یعنی اشرافیہ سمجھتے ہیں

میں اور میرا دوست اکثر چائے پر دنیا کے بڑے مسئلوں پر ایسے گفتگو کرتے ہیں جیسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل ہمارے اشارے کی منتظر ہو۔ اُس دن بات بالی ووڈ کی فلم دھورندر سے شروع ہوئی۔ جس پر کہا جا رہا تھا کہ اسے پاکستان کو بدنام کرنے