جمعه,  10 جولائی 2026ء

کالم

کوئی ہمیں یہ کیوں نہیں بتاتا
کوئی ہمیں یہ کیوں نہیں بتاتا

تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ کوئی ہمیں یہ کیوں نہیں بتاتا کہ اتنا اچھا نہ بنو کہ خود کو بھول جاؤ ، ہماری زندگیوں میں ہمارے ساتھ جو بڑے بڑے دھوکے ہوئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہمیں ہمارے بڑوں نے ہمیشہ یہی سمجھایا ہے

کوئی ہمیں یہ کیوں نہیں بتاتا
مصیبتوں میں مدد کے لیے دعا

تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ مصیبتوں میں مدد کے لیے دعا اے ہمارے خدا ،تو ہمیں اپنے قہر میں چھوڑ کر نہ جا اور اپنے غیض و غضب سے ہمیں تنبیہ نہ کر کیونکہ ہم اب پژمردہ ہو گئے ہیں۔ اے کائنات کے مالک ،ہمیں شفا دے کیونکہ

پاکستان میں لوڈ شیڈنگ: مسئلہ بجلی کا نہیں، نظام کا ہے
پاکستان میں مہنگائی بلکہ ناجائز مہنگائی

پاکستان میں مہنگائی میں کمی دیوانے کا خواب ہی دکھائی دے رہی ہے ۔ ایک تو وہ مہنگائی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساری دنیا میں آ رہی ہے جیسا کہ آج سے پچاس سال قبل دنیا بھر میں سونے ، چاندی ، گندم ، گھی اور دیگر اشیاء

پاکستان میں لوڈ شیڈنگ: مسئلہ بجلی کا نہیں، نظام کا ہے
مارشل لا کی طویل چھاؤں اور پاکستان کا ادھورا سفر

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں 5 جولائی 1977 ایک ایسا دن ہے جس نے ملک کی سیاست، ریاستی ڈھانچے اور سماجی رویّوں پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ اسی روز اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف، جنرل محمد ضیاء الحق، نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ملک

کوئی ہمیں یہ کیوں نہیں بتاتا
نہ زمین پھٹی/ نہ آسمان رویا

تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ نہ زمین پھٹی/ نہ آسمان رویا میں نے دیکھا تنگ سی گلی میں تین سال کا معصوم بچہ اپنی ماں کے پیچھے پیچھے جا رہا ہے، پھر میں ٹھیک طرح سے دیکھ نہیں پایا کہ وہ موٹر سائیکل جو آندھی کی سی تیزی

کوئی ہمیں یہ کیوں نہیں بتاتا
اسحاق ڈار کے کچھ لگتے /ہاف فرائی یا فل فرائی ؟

تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ۔ اسحاق ڈار کے کچھ لگتے /ہاف فرائی یا فل فرائی ؟ پاکستان میں لاہور کے علاقے ڈیفنس میں صاحب اختیار و اقتدار، نائب وزیراعظم جناب اسحاق ڈار کے مبینہ نواسے کی، مبینہ طور پر ہالینڈ اور ونزویلا کی دوشیزاؤں کے ساتھ بلیک میلنگ،

کوئی ہمیں یہ کیوں نہیں بتاتا
کسی کے ہاتھ نہ آئے گی یہ لڑکی

 تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ کسی کے ہاتھ نہ آئے گی یہ لڑکی۔ آپ لوگوں کے لیے یہ ماننا نہایت مشکل ہوگا، اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ آج بھی ایسی لوگ ہیں جو آپ کے کسی چھوٹے سے کام کرنے پر آپ کے اتنے مشکور ہوتے

کوئی ہمیں یہ کیوں نہیں بتاتا
میں ٹھیک نہیں ہوں/کیا آپ ایسا کہ سکتے ہیں؟

سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ میں ٹھیک نہیں ہوں/کیا آپ ایسا کہ سکتے ہیں؟ میں چاہتا ہوں کہ اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ کیسے ہو ؟کیا ہو رہا ہے، کیسی چل رہی ہے زندگی؟ تو آپ کبھی کسی سے بلا ججھک یہ کہہ سکیں کہ بھائی میں ٹھیک

باپ گھر کے درخت ہوتے ہیں۔۔
باپ گھر کے درخت ہوتے ہیں۔۔

باپ سراں دے تاج محمد، تے ماواں ٹھنڈیا چھاواں۔۔ میاں محمد بخش کا کلام سامنے آیا تو آنکھ بھر آئی، جولائی کا آغاز ہوتا ہے تو ویسے ہی ابو جی کی یاد آنے لگتی ہے، وہ جب تک زندہ تھے ہماری زندگی میں کوئی مسئلہ پریشانی ہوتی ہی نہیں تھی،

کوئی ہمیں یہ کیوں نہیں بتاتا
بیگمات ہوشیار باش

 تحریر: سید شہریار احمد  ایڈوکیٹ ہائی کورٹ بیگمات ہوشیار باش انسانیت کی لاعلاج بیماریوں میں سے یکسانیت سے اکتا جانا بھی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ شادی شدہ جوڑے اپنے شریک حیات سے وہ جسمانی، روحانی اور نفسیاتی خوشی حاصل نہیں کر پاتے جو انہیں پہلے