بدھ,  29 جولائی 2026ء

کالم

معاشرے سیکس سے تباہ نہیں ہوتے ؟
معاشرے سیکس سے تباہ نہیں ہوتے؟

تحریر: سید شہریار احمد ایڈووکیٹ ہائی کورٹ معاشرے سیکس سے تباہ نہیں ہوتے ؟ مذاہب کی لاعلاج بیماریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ سوچنے سمجھنے، غور و فکر کرنے کی صلاحیت ، تحمل سے سننے اور برداشت کرنے، کسی نئے نظریے یا فلسفہ کو قبول کرنے کی

میں اور میرا دوست
کشمیر کے الیکشن، فارم 47 اور کارکنوں کا خون

میرے دوست نے موبائل میرے سامنے رکھا۔ اسکرین پر آزاد کشمیر کے انتخابات کی خبریں چل رہی تھیں۔ ایک خبر میں بتایا جا رہا تھا کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر پولنگ بوتھ کو آگ لگا دی گئی۔ دوسری خبر میں کہا گیا کہ ایل اے 6 بھمبر سماہنی کے پولنگ

معاشرے سیکس سے تباہ نہیں ہوتے ؟
اوکے چاچا، تھینک یو انکل، ٹھیک ہے بابا جی

 تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ او کے چاچا، تھینک یو انکل ، ٹھیک ہے بابا جی ۔ آج میں آپ سے اپنی معاشرتی، سماجی اور سیاسی، امن و امان اور ملکی تجارتی خسارے سے ہٹ کر بات کروں گا اور یہ ایک ایسا خسارہ ہے جو مجھے ان

معاشرے سیکس سے تباہ نہیں ہوتے ؟
میں کہاں ہوں؟ کیا یہ بستر مرگ ہے؟

 تحریر: سید شہریار احمد ایڈو کیٹ ہائی کورٹ میں کہاں ہوں؟ کیا یہ بستر مرگ ہے؟ میری نظروں کے بالکل سامنے سفید دیوار ہے۔ اپنی آنکھوں کو ہلکی سی دائیں بائیں جنبش دے کے دیکھ سکوں تو وہ بھی سفید دیواریں ہیں، لڑکے اور لڑکیاں جو تھوڑی تھوڑی دیر کے

پاکستان میں لوڈ شیڈنگ: مسئلہ بجلی کا نہیں، نظام کا ہے
ایران امن کے مواقع ضائع نا کرے

اسرائیل جو چاہتا تھا اب وہی کچھ ہونے جا رہا ہے ۔ اسرائیل چاہتا تھا کہ اسلامی ممالک ایک دوسرے سے لڑ کر کمزور ہوں تاکہ اسرائیل کو کھل کر کھیلنے کا موقع مل سکے ۔ جب امریکہ اور ایران کی لڑائی شروع ہوئی تو امید اس بات کی تھی

معاشرے سیکس سے تباہ نہیں ہوتے ؟
آئیے اشرف المخلوقات سے ملتے ہیں۔

تحریر: سید شہریار احمد  ایڈوکیٹ ہائی کورٹ  آئیے اشرف المخلوقات سے ملتے ہیں۔ چلئے آج آپ کو میں اشرف المخلوقات سے ملاتا ہوں۔ ہم بنی نو انسان کو دو حصوں میں بانٹتے ہیں۔ ایک وہ جو مسلمان ہیں اور دوسرے وہ جو دائرہ اسلام میں نہیں ہیں یا تو ان

پاکستان میں لوڈ شیڈنگ: مسئلہ بجلی کا نہیں، نظام کا ہے
وفاقی وزیر توانائی کی نئی پھلجڑی

وفاقی وزیر پانی و بجلی جناب اویس لغاری نے ایک نئی پھلجڑی چھوڑی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی سولر انرجی کی وجہ سے واپڈا تکنیکی اور انتظامی مسائل کا شکار ہو رہا ہے ۔ بالفاظ دیگر وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ملک میں

معاشرے سیکس سے تباہ نہیں ہوتے ؟
( میں جس کی چاہے زندگی برباد کر دوں)

 تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ ( میں جس کی چاہے زندگی برباد کر دوں) جی ہاں میں نے بالکل ٹھیک لکھا اور آپ نے بالکل ٹھیک پڑھا ہے۔ میں جس کی چاہے زندگی برباد کر سکتا ہوں اور یہ ایک محض دعوی نہیں ہے، یہ سب میں جب

میں اور میرا دوست
بچے ، مٹی اور موبائل فون کی دنیا !

آج پارک میں بچوں کو مٹی کے ساتھ کھیلتے دیکھا تو نہ جانے کیوں اپنا بچپن یاد آ گیا۔ وہ بچپن، جب مٹی صرف زمین نہیں ہوتی تھی بلکہ ہماری دنیا ہوتی تھی۔ اسی مٹی سے گھر بنتے تھے، راستے بنتے تھے، کھانے پکائے جاتے تھے، قلعے تعمیر ہوتے تھے

معاشرے سیکس سے تباہ نہیں ہوتے ؟
عنوان ہے، زندگی کا خوف

تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ عنوان ہے، زندگی کا خوف جب میں اپنے آس پاس، آگے پیچھے دیکھتا ہوں تو مجھے وہ خوف، جو ہمارے والدین یا سماج نے، جانے انجانے میں ہمارے ذہنوں میں منتقل کیے ہیں، ایک جال کی طرح نظر آتے ہیں اور اس میں