فرح بی بی کی کرپشن کی کڑیاں بشریٰ بی بی سے ہوتی ہوئی سابق وزیراعظم عمران خان سے جا کر ملتی ہیں۔میاں جاوید لطیف

اسلام آباد(سدھیر احمد ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر راہنماء اوروفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ آئین بنانے والے اگر آئین توڑنے لگ جائیں تو پھر کیا فرق رہ جائے گا،جس معاشرے میں آئین قانون کی بالادستی ختم ہوجائے تو وہاں افراتفری پھیلتی ہے،ڈپٹی اسپیکر نے آرٹیکل 5 کا سہارا لے کر عدم اعتماد کو مسترد کیا،آئین توڑنے والا اگر وردی کے بغیر بھی ہے تو اس پر بھی آرٹیکل 6 لگنا چاہیے، جلسے میں تقاریر میں سب قائدین سے غلطیاں ہو جاتی ہیں،صحابہ کرام کے ساتھ تقابلی جائزہ شروع ہوا اور بات یہاں ختم نہیں ہوئی،مدینہ منورہ میں جو کچھ ہوا بات وہاں تک نہیں رکی،میں اس کا حامی ہوں کہ اس کی آڑ میں مقدمات نہیں بننا چاہیں کیونکہ مقدمات بنانے سے یہ فتنہ اور پھیلے گا۔صرف 22 کروڑ ہی نہیں پوری مسلم امہ کے دل دکھے ہیں،آج کابینہ میں کہوں گا تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام، تمام سیکورٹی ادارے اور قائدین مل بیٹھیں اور عمران فتنے سے چھٹکارا حاصل کریں، اس عمرانی فتنے کو فوری طور پرختم کرنے کی ضرورت ہے، لاڈلے کے لیے کل بھی سپیس تھی اور آج بھی ہے،فرح بی بی کی کرپشن کی کڑیاں بشریٰ بی بی سے ہوتی ہوئی عمران خان سے جا کر ملتی ہیں۔جن الیکشن قوانین کے تحت 2018 کے الیکشن ہوئے ہم ان پر ایکشن پر تیار ہیں،73کا آئیں متفقہ طور پر بنا تھا آئین میں ترمیم اکثریت نہیں بلکہ اتفاق سے ہونی چاہیے،نیشنل پریس کلب اسلام ٓباد کے پروگرام میٹ دی پریس میں اظہار خیال کرتے ہوئے میاں جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ جس معاشرے یا ریاست میں ٓئین اور قانون کی بالا دستی ختم ہو جائے وہاں لسانی گروہ اور فسادات جنم لیتے ہیں، آئین بنانے والے ہی اگر آئین توڑنے اور اسکے ساتھ کھلواڑ شروع کر دیں تو پھرباقی کیا رہ جائے گا،جس معاشرے میں آئین قانون کی بالادستی ختم ہوجائے تو وہاں افراتفری پھیلتی ہے،ڈپٹی اسپیکر نے آرٹیکل 5 کا سہارا لے کر عدم اعتماد کو مسترد کیا،ایک واقعہ پچھلے دنوں ہوا اس کے اثرات ابھی بھی باقی ہیں، ڈپٹی اسپیکر نے آرٹیکل 5 کا سہارا لے کر عدم اعتماد کو مسترد کیا اور پھراس وقت کاوزیراعظم پانچ دس منٹ کے وقفے سے قومی اسمبلی توڑ دیتا ہے،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے سے ریکارڈ شدہ تقریر اس منصوبہ بندی کا حصہ تھی،سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا،آئین توڑنے والا اگر وردی کے بغیر بھی ہے تو اس پر بھی آرٹیکل 6 لگنا چاہیے، عمران خان بے شک جلسے کرے تو اسے گرفتار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تاہم اس عمرانی فتنے کو فوری طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے،یہ فتنہ اس 2014 میں شروع ہوا جب چین کا صدر پاکستان آرہا تھا،اگر اس وقت قانون حرکت میں آیا ہوتا تو آج یہ سب نہ ہوتا، اس وقت کسی نے تو اسپیس دی ہوگی۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ جلسے میں تقاریر میں سب قائدین سے غلطیاں ہو جاتی ہیں،صحابہ کرام کے ساتھ تقابلی جائزہ شروع ہوا اور بات انبیاء کرام کے ساتھ تقابلی جائزے تک جا پہنچی پھرمدینہ منورہ میں جو کچھ ہوا وہ بھی سب نے دیکھا ہے، ان واقعات سے صرف 22 کروڑ ہی نہیں پوری مسلم امہ کے دل دکھے ہیں،میں اس کا حامی ہوں کہ اس کی آڑ میں مقدمات نہیں بننا چاہیں تاہم آج کابینہ میں کہوں گا تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام تمام سیکورٹی ادارے اور قائدین مل کربیٹھیں اور عمران فتنے سے چھٹکارا حاصل کریں کیونکہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور یہاں اس منصوبے کے تحت افراتفری کی سازش ہورہی ہے،ہم نے عدم اعتماد کا غیر مقبول فیصلہ لیا،اس کی وجہ یہ ہے کہ نیوکلیئر پاور تک رسائی اس کی موجودگی میں ہوئی،پاکستان کے نیوکلیئر پاور اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں جبکہ عمران خان حکومت سے باہر نکلنے کے بعد کہہ رہا ہے ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں نہیں، ایسی باتیں ملک دشمن قوتوں کو سپورٹ کرنے کی کوشش ہے۔73کا آئیں متفقہ طور پر بنا تھا آئین میں ترمیم اکثریت نہیں بلکہ اتفاق سے ہونی چاہیے،آج عمران خان جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کر رہا ہے مگر کیا اس نے جو2015 میں کمیشن بنا تھا اسے تسلیم کیا تھا، اگر کمیشن بنانا ہے تو پھر2014 کے واقعات پر بھی کمیشن بننا چاہیے،2017 کیلئے بھی کمیشن بننا چاہیے کہ کیسے پانامہ سے اقامہ نکلا،آپ سازش کو بیچنے کے علاوہ اپنی کارکردگی بتاوٗ،اس وقت بھی وہ سول نافرمانی کی بات کرتا تھا آج بھی بات کرتا ہے،عالمی قوتیں اور مالیاتی ادارے جن سے پیسہ مانگتے ہیں ان کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔جو چار سالوں میں مہنگائی ہوئی ہے اس کو ایک ماہ میں ختم نہیں کیا جاسکتا،عالمی قوتیں اور مالیاتی ادارے جن سے پیسہ مانگتے ہیں ان کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔جو چار سالوں میں مہنگائی ہوئی ہے اس کو ایک ماہ میں ختم نہیں کیا جاسکتا،73کا آئیں متفقہ طور پر بنا تھا آئین میں ترمیم اکثریت نہیں بلکہ اتفاق سے ہونی چاہیے،فرح بی بی نے اتنی کرپشن کیسے کر لی ہے،فرح بی بی سی ایم تھی یا پی ایم تھی اگر نہیں تو پھر وہ اتنی بااختیار کیسے تھی،فرح بی بی چار سال پہلے بھی پاکستان میں تھی اس کا بشریٰ بی بی سے کیا تعلق تھا،اس کی کرپشن کی کڑیاں بشریٰ بی بی سے ہوتے ہوئے عمران خان سے جا کر ملتی ہیں۔فرح بی بی واپس آ جائیں تو بہتر ہے ورنہ ان کو واپس لایا جائے گا،احتساب ضرور ہونا چاہیے مگر سب کا اور بلا تفریق ہونا چاہیے، ہم آج بھی کہتے ہیں فوری الیکشن ہونے چاہیں،پہلے آوٗ اور مانو کہ الیکشن ریفارمز جو تم لیکر آئے وہ غلط تھیں،جن الیکشن قوانین کے تحت 2018 کے الیکشن ہوئے ہم ان پر ایکشن پر تیار ہیں۔یا پھر انتظار کرو، کہ نئی الیکشن ریفارمز کی جائیں،نیشنل پریس کلب قوم کے شعور کیلئے کردار ادا کر رہا ہے۔صحافی مصیبتیں اٹھانے کے باوجود ڈٹے ہوئے ہیں۔اگر آزادی اظہار کے قائدین میں جھول نہ آئے تو قومیں ان کو یاد رکھتی ہیں،میری 27 سالہ جدوجہد کا مقصد آئین قانون کی بالادستی ہے، قبل ازیں پی ایف یو جے صدر شہزادہ ذوالفقار، سیکرٹری جنرل ناصر زیدی، صدر این پی سی انور رضا اور فنانس سیکرٹری نیئر علی نے میاں جاوید لطیف کو نیشنل پریس کلب ٓمدید پر خوش آمدید کہتے ہوئے ان کی میڈیا اورآزادی اظہار رائے کیلئے ان کی گرانقدر خدمات پر خراج تحسین پیش کیا اور میڈیا کیلئے قوانین میں ریفارمز کا مطالبہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں