پاکستان تحریک انصاف کے راہنما کا اپنے سبزی فروش بہنوئی کے ساتھ ملکرمری میں جنگل اراضی پر قبضے کے انکشافات

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)حلقہ این اے ستاون سے پی ٹی آئی کے سابق رکن قومی اسمبلی صداقت عباسی اور ان کے سبزی فروش بہنوئی کی طرف سے ایکسپریس وے مری پر جنگل اراضی پر کئے گئے قبضہ کو قانونی ثابت کرنے کیلئے محکموں کو رام کر کے ایک نئی جھوٹی نشاندہی رپورٹ تیار کرانے کے عمل کا انکشاف ہوا ہے۔ منتخب ایم این اے نے اپنے فرنٹ مین بہنوئی اور 1122 کے ملازم کے نام پر موضع مانگا/سلکھیتر سے متصل جنگل نمبر پی ایف 89 کی سینکڑوں کنال قیمتی اراضی پر اپنے گزشتہ کے کئے گئے قبضہ کو قانونی ثابت کرنے کیلئے محکمہ مال، جنگلات اور ہائی وے کو استعمال کر کے فرضی نشاندہی اور بعد ازاں رپورٹ جاری کروائی ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں محکمہ مال کی گزشتہ کی اس نشاندہی کو غلط قرار دیا گیا ہے جس میں مذکورہ رقبے کو پی ایف 89 جنگل کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔ محکموں کی طرف سے حالیہ مرتب کردہ رپورٹ میں قبضہ مافیا کے زیر استعمال تمام اراضی کو شاملاتی قرار دے کر زیر استعمال ظاہر کیا گیا ہے زمینی حقائق یہ ہیں کہ مزکورہ رقبہ نہ تو ملکیت ہے اور نہ ہی شاملات ، بلکہ پی ایف 89 جنگل کو کاٹ کر استعمال میں لائی گئی سینکڑوں کنال اراضی سرکاری ملکیت ہے جس کی علاقے کے مقیمی اور محکمہ جنگلات کے ملازمین گواہی بھی دے چکے ہیں۔ وفاق کے بعد پنجاب حکومت بھی ہاتھ سے نکلتی دیکھتے ہوئے صداقت عباسی اور اس کے فرنٹ مینوں کی طرف سے ایک نئی نشاندہی کے ذریعے اس غیر قانونی قبضہ کو قانونی ثابت کرنے کی ایک اور بھونڈی کوشش کی گئی ہے۔ اہل علاقہ نے نگران وزیر اعلی پنجاب سے معاملہ کی اعلی سطح انکوائری کروا کر جنگل اراضی پر کیا گیا قبضہ واگزار کرانے سمیت اس غیر قانونی قبضہ میں ملوث کرداروں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مقدمہ کے اندراج کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں