نیپال طیارہ حادثے میں دردناک کہانیاں بھی منظرعام پر آگئیں

مانچسٹر(شہزاد انورملک)نیپال طیارہ حادثے میں دردناک کہانیاں سامنے آگئیں،طیارہ حادثے میں مرنے والی معاون پائلٹ انجوکھٹیواڈا کے شوہر بھی ییٹی ائیرلائنز کے طیارہ حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے اور انجواپنے شوہر کی محبت میں پائلٹ بنی تھی۔
اتوار کو نیپال کے پوکھرا ایئرپورٹ میں گر کر تباہ ہونے والے ییٹی طیارے میں عملے کے ارکان سمیت کل 72 افراد سوار تھے جن میں سے69 افراد کی لاشیں مل چکی ہیں۔
نیپال کے طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں سے ایک ماسکو کی ٹریول بلاگر 33 سالہ ایلینا بندورو تھی، جس نے اپنی دنیا بھر میں مہم جوئی آن لائن شیئر کی تھی۔

اس نے اپنے تازہ ترین سفر کے بارے میں جوش کے ساتھ انگریزی پیغام نیپال جائو بھی ہوائی جہاز میں دکھایا۔اس کا سوشل میڈیا آج تعزیت کے پیغامات سے بھرا ہوا تھا، اور اسے ‘روشن ترین، مہربان روح’ کے طور پر بیان کیا گیا۔
واضع رہے کہ المناک بلاگر نے سوشل میڈیا مینجر کے طور پر کام کیا اور بڑے پیمانے پر سفر کیا۔ پرواز میں تین دیگر روسی ہلاک ہوئے، جن کے نام وکٹوریہ التونینا، یوری لوگن اور وکٹر لگن تھے۔
ایلینا بندوروکی وہ سیلفیاں بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں جو حادثے سے قبل جہاز میں بنائی گئی تھیں۔ان تصاویر پر ایلینا کے مداحوں نے بہت دکھ اور غم کے پیغامات بھی جاری کئے ہیں۔
اسی طرح طیارہ حادثے میں انجو کی کہانی دیگرمرنے والوں سے اس لئے مختلف ہے کہ انجو کا16سال قبل شوہر حادثے کا شکار ہوا اور اب انجو خودبطور معاون پائلٹ موت کے منہ میں چلی گئی۔
انجو کے شوہر کا طیارہ بھی لینڈنگ سے چند منٹ پہلے گر کر تباہ ہواتھا اوراب انجو کا طیارہ بھی لینڈنگ سے تھوڑی دیر پہلے گرکر تباہ ہوگیا
یاد رہے کہ جب انجو 28 سال کی تھی کہ انکاشوہردیپک طیارے حادثے میں جاں بحق ہوگیا تھا اگرچہ انجو کے پاس آگے بڑھنے کے مواقع بھی تھے،ییٹی ایئر لائنز کے اہلکارکے مطابق ’انجو کے والد چاہتے تھے کہ وہ انڈیا جائیں، پڑھائی کریں اور کیریئر بنائیں لیکن انجو نے انکار کر دیا۔‘انجو اپنے شوہر دیپک کی یاد میں پائلٹ بننا چاہتی تھیں اورآخرکار وہ اپنی خواہش پوری کرنے میں کامیاب بھی ہوگئی ،ییٹی ایئر لائنز کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’انجو نے اپنے شوہر کی موت کے بعد ملنے والی انشورنس کی رقم سے ہوا بازی کا کورس کیا۔‘
انہوں نے سنہ 2010 میں ییٹی ایئر لاینز میں شمولیت اختیار کی۔ یہ وہی ایئر لائن کمپنی تھی جہاں انجو کے شوہر دیپک بھی کام کرتے تھے۔
دیپک بہت اچھے اورتجربہ کارپائلٹ ہونے کی وجہ سے نیپال آرمی کے ہیلی کاپٹر اڑاتے تھے۔انجو سے شادی کے چند سال بعددیپک نے ییٹی ایئر لائنز میں شمولیت اختیار کی،لیکن بدقسمتی سے دیپک سنہ 2006 میں ایک طیارہ حادثے میں جان کی بازی ہار گئے۔
انجوکی دردناک کہانی سنانے والے ییٹی ایئرلائنزکے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ ’طیارہ حادثہ جس میں دیپک کی موت ہوئی تھی،اس میں دو پائلٹس سمیت نو افراد سوار تھے اورسب ہلاک ہو گئے تھے۔
نیپال میں پوکھرا ایئرپورٹ کے قریب طیارہ حادثے میں ایک نوبیاہتا جوڑا بھی تھا جنکے اہلخانہ یہ امید لگائے ہوئے ہیں کہ وہ ایک دن لوٹ آئیں گے۔
خبررساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ائیرلائننز کے ایک افسرنے بتایا کہ انجو بہت زہین اور قابلیت رکھنے والی پائلٹ تھی جسے ہمیشہ یادرکھا جائے گا،انجوہر قسم کی ذمہ داری لینے کیلئے تیار ہوا کرتی تھی،وہ کھٹمنڈو، بھدر پور، برات نگر اور دھنگیڈی کے علاوہ کئی دوسرے ہوائی اڈوں پر بھی جا چکی ہیں۔
ییٹی ایئر لائنز کے تباہ ہونے والےطیارے کے پائلٹ کمالکے تھے۔ایئر لائنز کے مطابق ’انھیں 21,000 گھنٹے سے زیادہ پرواز کا تجربہ تھا۔ ان کی لاش مل گئی ہے اور اس کی شناخت کر لی گئی ہے۔‘
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں، اتوار کو گر کر تباہ ہونے والا ییٹی ایئر لائنز کا طیارہ ایک گنجان آباد علاقے پر نچلی پرواز کرتے ہوئے اور پھر اچانک نیچے گرتا ہوا نظر آ یا ۔حادثے کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی کمیشن تشکیل دے دی گئی ہے یہ کمیشن طیارہ حادثے کی وجوہات سامنے لائے گا۔
نیپال کے وزیر اعظم پشپا کمل نے کابینہ کی میٹنگ میں ملک کے تمام ہوائی جہازوں کی تکنیکی جانچ کو لازمی بنانے کی ہدایت کی۔ اس کی نگرانی کی ذمہ داری سول ایوی ایشن اتھارٹی کو دی گئی ہے۔
نیپال کے حکام کے مطابق تباہ ہونے والے طیارے کا بلیک باکس مل گیا ہے۔اب انکوائری کے بعد معلوم ہوسکے گا کہ حادثے کی وجہ بیرونی عوامل تھے یا اندرونی وجوہات تھیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ طیارے کے بلیک باکس میں فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈر دونوں ہوں گے، اس لیے یہ تحقیقات میں بہت اہم ہو گا۔انکوائری کمیشن 45 دن میں اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔
ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 2000 سے اب تک نیپال میں ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹروں سے متعلق حادثات میں تقریباً 350 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دنیا کی بلند ترین پہاڑی چوٹیوں میں سے آٹھ نیپال میں ہیں۔نیپال کا شمار طیارہ حادثے کے لحاظ سے خطرناک ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں