مہنگا دودھ قوم پر ظلم

مخالفین کو مہنگائی کا ذمہ دار ٹھہرانے والے حکمران جس طرح قوم پر ظلم ڈھا رہے ہیں،اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ۔یوں تو آٹا ،گھی ،دالیں ،سبزیاں ،پھل ،ادویات سمیت ہر چیز کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں ۔عوام کس کس بات کارونا روئیں ۔کیسے اپنے اوپر ڈھائے جانے والے عذاب کوبیان کریں ۔ دودھ (جو بچوں کی ضرورت ہے ) جیسی بنیادی چیز کے نرخ بھی عوام کی پہنچ سے دور ہو چکے ۔ کھلا دودھ(جس کے خالص ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں ) اس وقت160روپے سے 200روپے لیٹرتک بک رہا ہے ،جبکہ ڈبوں میں ملنے والے دودھ کا ریٹ بھی عوام کی قوت ِخرید سے زیادہ ہے ۔حکومت نے دودھ پر یہ ظلم کر رکھا ہے کہ جس دودھ کی قیمت 188روپے لیٹر ہے ،اس پر 32روپے جی ایس ٹی لگایا گیا ہے ۔یہ دودھ ڈیپارٹمنٹل سٹورز پر 220روپے سے230روپے تک دستیاب ہے ۔جبکہ کھلی مارکیٹ میں یہ 230روپے سے250روپے تک مل رہا ہے ۔دور دراز پسماندہ علاقوں میں اس سے بھی زیادہ ریٹ پر معروف کمپنیوں کا دودھ بک رہا ہے ۔
دودھ سب سے زیادہ بچوں کی ضرورت ہے ،ایک گھرانے میں ایک سے 2کلو تک روزانہ دودھ استعمال ہوتا ہے ۔یوں صرف دودھ کی مد میں 7000 سے 15000ہزار روپے خرچ آتا ہے ۔اس میں 30سے40فیصدتک ٹیکس کی رقم شامل ہے ۔اسی طرح خشک دودھ کی قیمتیں بھی تقریباً ڈبل ہو چکی ہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ دودھ سمیت اشیائے ضروریہ پر لگائے جانے والے” جی ایس ٹی “و دیگر ٹیکسسز کی صورت حکومت کھربوں روپے عوام کی جیبوں سے زبردستی نکالتی ہے۔لیکن عوام کی طرف سے ادا کردہ یہ رقم قومی خزانے تک پہنچتی ہے یا نہیں ،اس عمل کی شفافیت اپنی جگہ سوالیہ نشان ہے ۔حکومت غریبوں کی خیرخواہی کے نعرے لگاتی نظر آتی ہے لیکن کسی کو احساس نہیں کہ وہ غریبوں پر کیسے کیسے ظلم ڈھا رہاہے ۔ایک دکاندار جس نے کوئی بھی چیز اگر دو سال پہلے 100روپے کلو خریدی تھی ،تو وہ بھی آئے روز ڈالراور پیٹرول مہنگا ہونے کی آڑ میں اس کا ریٹ بڑھادیتاہے ۔گویا گذشتہ صرف ایک سال کے دوران دکاندار نے 100روپے والی چیز 300سے 400روپے تک بیچی ۔ایسے میں دکاندار کو ملنے والے منافع کی شرح کا جائزہ لیا جائے تو اُس نے ایک کروڑ روپے کا مال 3سے 4 کروڑ میں بیچا ۔دکاندار کا جواز یہ ہے کہ ڈالر کی اُڑان سے قیمتیں بڑھ رہی ہیں ۔اسی طرح حکومت آئی ایم ایف کی ہدایات کی روشنی میں ضرورت کی ہر چیز پرGSTسمیت بیسیوں اقسام کے ٹیکس لگا رہی ہے ۔ان ٹیکسوں کی شرح بھی تسلسل کے ساتھ بڑھا ئی جاتی ہے ۔ایک دیہاڑی دار اگر10000ہزار روپے کا سودا سلف خریدتا ہے تو اُسے جی ایس ٹی و دیگر ٹیکسز سمیت 2000ہزار سے3000ہزار روپے تک حکومت کو ادا کرنا پڑتے ہیں ۔بجلی ،گیس اور پانی کی مد میں بھی بیسیوں اقسام کے ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں ۔سفید پوش محدود آمدن والے لوگوں کو اپنا نظام زندگی چلانا دشوار ہوچکا ۔مہنگائی کی آڑ میں کاروباری لوگ ناجائز منافع خوری میں تمام حدیں پار کر چکے ہیں ۔حکومت میں شامل افراد کھربوں روپے تنخواہوں اور مراعات کی صورت وصول کرتے ہیں ۔اپنے قرابت داروں کو نوازنے کےلئے بیسیوں محکمے قائم کئے گئے ہیں جن کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ان محکموں سے وابستہ افراد کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے ۔حکومت عام آدمی سے یہی توقع رکھتی ہے کہ وہ15سے 20ہزارروپے ماہانہ تنخواہ کے ساتھ ایمانداری سے اپنے زیر کفالت افراد کی ذمہ داریاں پوری کرے۔جبکہ خود صاحبِ اختیار لوگ لاکھوں،کروڑوں روپے کی دیہاڑی لگانے کے باوجود مطمئن نہیں ہیں۔حکومت ٹیکسسز کی مد میں کھربوں روپے کی رقم عوام سے وصول کرتی ہے ،لیکن اُس کے بدلے انہیں کسی قسم کا کوئی ”ریلیف“ اور ”تحفظ“نہیں دیا جاتا ۔صدر مملکت ، وزیر اعظم ، گورنر ، وزیر اعلیٰ سمیت حکومت میں شامل خواتین و حضرات جہاں اپنی ملازمت کے دوران کھربوں روپے کی تنخوائیں اور مراعات وصول کرتے ہیں ۔وہاں عام آدمی کی ساری زندگی حکومت کو ٹیکس دیتے دیتے گذر جاتی ہے ۔بیوروکریسی کا شمار محض ”لینے“ والوں میں ہوتا ہے ،50برس سرکاری ٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ زندگی گذارنے والا ملک و ملت کو کچھ نہیں دیتا۔اور کام نہ کرکے بھی وہ حکومتی مراعات اپنا حق سمجھتا ہے۔
غریب عوام پر حکومتی الزام یہ ہے کہ ” سفید پوش لوگ “ٹیکس نہیں دیتے ،سراسر مذاق ہے ۔حقیقت تو یہ ہے کہ کھربوں روپے کمانے والے بااثر طبقات معمولی سا ٹیکس دے پر اپنی جان چھڑا لیتے ہیں ۔اس کے برعکس غریب اپنے کسی کام کے سلسلے میں کچھ رقم چائے ادھار ہی کیوں نہ لے، اور یہ رقم لے کربنک یا کسی بھی مالیاتی ادارے حتیٰ کہ کسی سکول ،کالج یا یونیورسٹی میں فیس کی ادائیگی کے لئے بھی جاتا ہے تو اسے پوچھا جاتا ہے کہ ”یہ پیسے تم کہاں سے لائے “۔؟۔المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں کمانے والے سے پوچھا جاتا ہے ۔کہ یہ رقم کہاں سے لائے ،لیکن غریب سے کوئی نہیں پوچھتا کہ تم نے روٹی کھائی۔۔؟تم کتنے دن سے بھوکے ہو ۔۔؟۔اور نہ ہی کسی حکومتی ذمہ دار فرد سے پوچھاجاتا ہے کہ اُس کے پاس دولت کیسے آئی۔۔؟ اور یہ کرنسی کے پہاڑ تم نے کیسے کھڑے کئے۔۔؟ ۔قرضوں پر پلنے والے حکمرانوں کا ضمیر اس قدر مردہ ہوچکا ہے کہ انہیں عام آدمی کی تکلیف کا احساس نہیں ہوتا ۔مغربی ممالک میں پیدا ہونے والے ہر بچے کی کفالت ،صحت و تعلیم کے ساتھ روزگار کی فراہمی کی ذمہ داری حکومت پوری کرتی ہے وہاں بچوں کے دودھ اور خوراک پر ٹیکس لگانے کا رواج نہیں جبکہ ہمارے ملک میں پیدا ہونے والے کسی بچے کو بھی کوئی تحفظ حاصل نہیں ۔ان کی کفالت کی ذمہ داری والدین کے سر ہے ۔جو اپنے بچوں کے روشن مستقبل کےلئے ہر جائز و ناجائز ذرائع سے پیسہ اکٹھا کرتے ہیں ۔ملک کے پالیسی ساز ادارے ایسی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں کہ جس سے امیر، امیر تر اور غریب ،غریب تر ہوتا چلا جارہا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت دودھ سمیت انسان کی بنیادی استعمال کی اشیاءپر کسی قسم کا ٹیکس لگانے سے گریزکرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں