خواتین کی تعلیم پر پابندی مستقل نہیں،دباؤ قبول نہیں کرینگے۔افغان وزیر تعلیم

کابل (روشن پاکستان نیوز )شیخ ندامحمد نےیوناما کے سربراہ کو اطمینان دلایا کہ خواتین کی تعلیم پر پابندی مستقل نہیں بیرونی عوامل کی وجہ سے مختصر عرصے کا تعطل آگیا ہے۔
وزیر ہائیر ایجوکیشن شیخ ندا محمد ندیم سے کل اپنے آفس میں افغانستان کے لیے یوناما کے نمائندہ خاص مارکس پوتزل اور دیگر عہدیداروں نے ملاقات کی،شیخ ندامحمد نے ملاقات میں کہا کہ وزارت اعلی تعلیم، تعلیم کے حوالے سے افغان عوام کے حقوق کی ادائیگی اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے اور اسلامی اور قومی اقدار کی روشنی میں ملک کی ترقی اور بہتری کے لیے کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امارت اسلامیہ کے مخالفین اعلی تعلیم اور اسلامی نظام کے قیام کے حوالے سے امارت اسلامیہ کو تنقید کا نشانہ بنا ر ہے ہیں اور اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے تاکید کی کہ افغانستان میں افغانوں کی قربانیوں سے اسلامی نظام قائم ہوا ہے۔ اسلام کے بنیادی احکامات کی تنفیذ پر کسی بھی قسم کے مطالبات کو بطور دباؤ تسلیم نہیں کریں گے۔
انہوں نے یوناما کے سربراہ کو اطمینان دلایا کہ کہ خواتین کی تعلیم پر پابندی مستقل نہیں بیرونی عوامل کی وجہ سے مختصر عرصے کا تعطل آگیا ہے۔ امارت اسلامیہ ان مسائل کو شریعت کی روشنی میں حل کر رہی ہے۔
یوناما کے سربراہ نے ملاقات میں کہا کہ اعلی تعلیم ہر ملک کی اقتصادی بہتری میں کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے اعلی تعلیم کے شعبے میں ہر طرح کے تعاون کا اطمینان دلایا اور خواتین کی تعلیم کے حوالے سے اپنا موقف پیش کیا۔
واضح رہے اس سے قبل فلسطین، لیبیا، مصر اور سوڈان کے علما کے وفد سے ملاقات کی اور افغانستان کے تعلیمی نظام کے حوالے سے گفتگو کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں