اقوام متحدہ سے 1991 میں کنن پوش پورہ کے اندونہاک واقع میں ملوث بھارتی فوجیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ۔انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس

مظفرآباد (    روشن پاکستان نیوز) کنن پوش پورہ کی مظلوم کشمیری خواتین پر بھارتی قابض افواج کے جنسی حملوں کیخلاف انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس کے زیر اہتمام احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بھارت مخالف شدید احتجاج اقوام متحدہ کے مبصرین کو مزمتی قرارداد پیش 23 فروری 1991 میں مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوش پورہ کے گاؤں میں بھارتی افواج نے محاصرے اور کریک ڈاون کی کاروائی کے بہانے عفت مااب کشمیری خواتین پر جنسی حملے کرکے تیس سے زائد کشمیری خواتین کی اجتماعی آبروریزی کے غمناک واقع کیخلاف دارالحکومت مظفرآباد میں انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس جموں کشمیر کے زیراہتمام برہان وانی شہید چوک میں بھارت مخالف احتجاجی دھرنا دیا گیا جس میں سینکڑوں خواتین اور دیگر شہریوں نے شرکت کی۔ خواتین نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر کنن پوش پورہ کی مظلوم اور متاثرہ خواتین کو انصاف دینے کے نعرے درج تھے۔ خواتین نے بھارتی افواج کے ظلم اور ستم کیخلاف اور آزادی کشمیر کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے ۔ احتجاجی مظاہرین نے کنن پوش پورہ کے واقع میں ملوث قابض بھارتی فوجیوں کو سزائیں دینے کا مطالبہ کیا۔ بھارت مخالف احتجاجی مظاہرے سے انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کے وائس چیئرمین مشتاق السلام، چیئرمین پاسبان حریت عزیر احمدغزالی،  مسلم لیگ ن کی رہنماء نصاری عباسی۔ مائرہ خان، شوکت جاوید میر، شگفتہ نورین کاظمی، عثمان علی ہاشم، ایڈووکیٹ عظمی شیریں، جاوید احمد مغل، بشری بخاری، ایڈووکیٹ  یاسر نقوی ، سائرہ چشتی ، شبنم اعوان، میڈم نسیمہ اور دیگر نے خطاب میں کہا کے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج خواتین اور بچوں پر حملوں کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے ۔ کشمیری خواتین گزشتہ تین دہائیوں سے بھارتی ظلم اور بربریت کا شکار ہیں۔ کنن پوش پورہ کی مظلوم خواتین کو آج تک انصاف نہیں ملا اور نہ ہی ان بھارتی درندوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا۔مقررین نے کہا کے 12 ہزار سے زائد کشمیری خواتین قابض بھارتی فورسز کے جنسی حملوں کا شکار ہو چکی ہیں۔ 22 سو سے زائد کشمیری خواتین نیم بیوگی کی زندگی گزارنے پر مجبور کردی گئی ہیں۔ آج بھی خواتین کشمیری خواتین سیدہ آدیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین ، فہمیدہ صوفی اور دیگر خواتین بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ بھارت مخالف دھرنے سے خطاب میں مقررین نے کہا کے انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں مقبوضہ ریاست جموں کشمیر میں خواتین، بچوں، بچیوں اور نہتے شہریوں پر دہشتگردانہ حملے رکوائے۔ اقوام متحدہ بھارتی جیلوں میں قید کشمیری خواتین کی فوری رہائی کے اقدامات کرے۔ مقررین نے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کے وہ جموں کشمیر کے مسئلے کے منصافانہ حل کیلئے اپنا موثر کردار ادا کریں۔ مقررین نے مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کے علمبردار محمد احسن اونتو کی بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتاری کی شدید مزمت کرتے ہوئے عالمی اداروں سے تمام کشمیری قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ بھارت مخالف احتجاجی مظاہرین نے برہان وانی شہید چوک سے اقوام متحدہ کے مبصر دفتر دومیل تک مارچ کیا اور مبصرین کو قراداد پیش کی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں