وزیر اعظم خود کنٹینر پر کھڑے ہوکر کہتے تھے کہ ایف بی آر چورں سے بھری ہے۔اجمل بلوچ

راولپنڈی ( سٹی رپورٹر)ملک بھر میں کھربوں, اربوں روپےکا کاروبار کرنے والے 80 لاکھ تاجر ان پڑھ اورناسمجھ ہونے کی وجہ سے پوائنٹ آف سیل سسٹم کے خلاف 30 نومبر کو وزیر اعظم ہاوس کے سامنے بھر پور احتجاج کریں گے ان خیالات کا اظہار کمرشل مارکیٹ راولپنڈی میں آل پاکستان تاجر ویلفئیر کے صدر اجمل بلوچ نے کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کے کہنے پر تاحروں کے لیے مشکل سے مشکل ٹیکس سسٹم کو لا کر نافذ کرتے ہیں جب کہ تاجر زیادہ تر ان پڑھ اور ان چیزوں کو بالکل نہیں سمجھتے اگر تاجرپی ایس سسٹم کو لگاتے ہیں تو اس کےلیے یا تو ایک بابو رکھنا پڑتا ہے یا وکیل ہائر کرنا پڑتا ہے اس سے قبل گذشتہ سال کرونا لہر میں شناختی کارڈ پر سیل پرچیز کا سسٹم لانے سے تاجروں کا 60 فیصد کاروبار ختم ہوگیا اجمل بلوچ نے کہا کہ وزیر اعظم خود کنٹینر پر کھڑے ہوکر کہتے تھے کہ ایف بی آر چورں سے بھری ہے ایف بی آر والے 50 کروڑ روپے ہر روز کھا جاتے ہیں کرڑوں روپے کے سامان کو لنڈا کہہ کر ٹیکس کو کھا جاتے ہیں اس موقع پرانجمن تاجراں پنجاب کے صدرشاہد غفور پراچہ نے کہا کہ تبدیلی کے دعوے کیے گئے لیکن مہنگائی کی ایسی تبدیلی لائی گئی کہ ہر کوئی رو رہا ہے کنٹونمنٹ بورڈ سے ان کو جھلکی نظر آ گئی ہوگی لیکن
سمجھ نہیں آئی اورملک میں مہنگائی کا ایسا طوفان لا کھڑا کیا جس سے امیر غریب مستوسط طبقات تک سب پریشان ہیں قوت خرید ختم ہو چکی ہے جو جیب میں لاتے ہیں پورا نہیں پڑتا.اس موقع پر فرنیچرز ایسوسی ایشن کے صدر تاج عباسی نے کہا کہ تمام تاجر مہنگائی کی شدید مذمت کرتے ہیں چوہدری فاروق صدرہوٹل ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن نے کہ ہمارا 18 ماہ سے کاروبار بند رہا جب کاروبار شروع ہوا تو گیس بند کر دی گئی ہے ہمارے ریٹس دو سالوں سے وہی ہیں سوئی گیس کا مسئلہ حل نہ ہوا تو ہم بھوک ہڑتالی کیمپ لگا ئیں گے انہوں نے ملک بھر کےتاجروں سےکہا سب ایک آواز ہوں گے تو مسائل حل ہوں اس لیے دن دو بجے سرینا ہوٹل کے پاس سب 30 نومبر کو جمع ہو ں وہاں سے اپنے حق کےلیےوزیر اعظم ہاوس تک احتجاج کرنے جائیں گے.

اپنا تبصرہ بھیجیں