معزز عدالت کو پینل کوڈ کے تحت مبینہ آڈیو کے معاملے کو بھی سننا چاہیے ۔سابق چیف جسٹس آف پاکستان

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر)سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے مبینہ آڈیو کلپ کے معاملے کے حوالے سے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے دوبارہ آڈیو کلپ کو جعلی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری تقاریر کو جوڑ کر آڈیو کلپ بنایا گیا، جعلسازی کی گئی۔
سابق چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پہلے ہی رانا شمیم سے متعلق کیس چل رہا ہے، عدالت کو آڈیو کلپ کا معاملہ بھی اس کیس کا حصہ بنانا چاہیئے۔ پینل کوڈ کے تحت اس معاملے کو بھی سننا چاہیے، ہائیکورٹ کو چاہیے کہ اس معاملے کو دیکھے۔ جبکہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کال کے معاملے پر صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون کی جانب سے بھی ردعمل دیا گیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل کے معروف صحافی اور اینکر پرسن کاشف عباسی سے گفتگو کرتے ہوئے احسن بھون نے کہا کہ ثاقب نثار کو جانتا ہوں ایسی وہ گفتگو ہرگز نہیں کر سکتے۔ آڈیو سن کر صاف ظاہر ہوتا کہ یہ جعلی ہے، جو لوگ عدلیہ کو بدنام کر رہے ان کے خلاف کاروائی ہونی چاہیئے۔ اس سے قبل اس حوالے سے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے بھی ردعمل دیا گیا تھا۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے مبینہ آڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میں نے ابھی یہ آڈیو سنی ہے، یہ آڈیو جعلی ہے جسے مجھ سے منسوب کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی چیزیں بناکرلائی جارہی ہیں،یہ آواز میری نہیں ہے۔ واضح رہے وفاقی وزیراطلاعات ونشریات چوھدری فواد حسین نے بھی مذکورہ معاملے کے حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ لگتا ہے ججوں کے خلاف مہم کی تیاری ذرا جلدی میں کی گئی، اس مذموم مہم کے پیچھے سارے کردار سامنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے اس معاملے میں عدالتیں نرم رویہ اختیار نہیں کریں گی اور اس توہین آمیز مہم کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
انھوں نے اپنے ایک اور بیان میں کہا کہ مریم نواز کی طرف سے سولہویں التواء کی درخواست کی گئی۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ دوسری طرف عدالتوں اور افواج پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈے مہم جاری و ساری سیسیلین مافیا نہیں تو اور یہ لوگ کیا ہیں۔
جبکہ سینئر صحافی کامران خان نےآڈیو کلپ کے متعلق کہا ہے کہ ‘مجھے گفتگو کے سیاق و سباق کا علم نہیں مگر آواز جسٹس ثاقب نثار کی ہی لگتی ہے، اب ثاقب نثار دور کے معاملات پر گاہے بگاہے پردہ اٹھتا رہے گا، پانامہ تحقیقات اور مقدمات کے بہت سے رازوں پر پردہ اٹھنا ابھی باقی ہے، عدالت عظمی اور ادارے خیر منائیں’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں