سابق وزیراعظم پاکستان اپنے نام کی طرح نوازتے تھے ۔ڈاکٹر عامر لیاقت

اسلام آباد(نیوز رپورٹر)سابق وزیراعظم پاکستان اپنے نام کی طرح سب کو نوازتے تھے، ابصار عالم سابق پیمرا چئیرمین بننے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے لیکن سابق وزیراعظم کی نوازش سے چئیرمین بن گئے ۔ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر عامر لیاقت راہنما پاکستان تحریک انصاف نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس میں کیا جو کے پریس کانفرنس کم مشاعرہ زیادہ لگ رہا تھا ۔انھوں نے کہا کے وہ سابق پیمرا چئیرمین ابصار عالم کے خلاف عدالت میں جائیں گے اور ہتک عزت کا دعوٰی دائر کریں گے ۔ابصار عالم کے الزامات کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے ۔ان کا کہنا تھا میری آج کی پریس کانفرنس کا مقصد سابق پیمرا چئیرمین کے الزامات کا جواب دینا ہےجیسے کہ انھوں نے کہا ہے کے ایک سابق عسکری عہدے پر فائز شخصیت نے چیف جسٹس آف پاکستان کو کہا ہے کے ڈاکٹر عامر لیاقت کے خلاف کوئی کارروائی نا کی جائے ،میں سابقہ پیمرا چئرمین کو کہتا ہوں کہ اگر آپ کے پاس کوئی ثبوت یا دلیل ہے تو سامنے لائیں بصورت دیگر میں ابصار عالم کے خلاف ہتک عزت کا دعوٰی دائر کروں گا ۔ڈاکٹر عامر لیاقت نے مزید کہا کہ سابق چیئرمین پیمرا نے نجی ٹی وی چینل میں بطور بیورو چیف اپنے کام کا آغاز کیا پھر وہاں سے نکالے گئے اس کے بعد یہ موصوف کسی طریقے سے سابق وزیر اعظم پاکستان تک پہنچے اور نواز دیے گئے جیسا کے ان کا نام تھا ،سابق پیمرا چئیرمین ابصار عالم کسی صورت میں اس عہدے کے قابل نہیں تھے حتی کہ پیمرا کی جانب سے چیئرمین کے عہدے کے لیے اشتہار بھی جاری کیا گیا تھا ۔انھوں نے چئیرمین بنتے ہی اپنا سارا غصہ ایک دوسرے نجی ٹی وی کو بند کرکے نکال لیا جیسے ان کو بطور بیورو چیف نکالا گیا تھا اسی نجی ٹی وی پر میں بھی کام کرتا تھا ،چیرمین بنتے ہی انھوں نے میرا پروگرام بند کر دیا۔سابق چیف جسٹس آف پاکستان نے مجھے چالیس دن تک کورٹ میں بٹھائے رکھا انھوں نے کہا کونسلر آف کملپین نے مجھے دس لاکھ کا جرمانہ کیا ہم نے وہ جرمانہ ادا کر دیا اور میرا پروگرام دوبارہ شروع کرنے کے احکامات مل چکے تھے سابق پیمرا چئیرمین دوبارہ عدالت پہنچ گئے ۔ڈاکٹر عامر لیاقت نے کہا میرا کیس بالکل صاف شفاف اور صرف توہین عدالت کا تھا اور اس کیس میں صرف معافی نامہ ہی آپ کو سلاخوں کے پیچھے بھیجنے سے روک سکتا ہے۔انھوں نے کہا وہ بھی صحافی ہیں لیکن مجھے سینئر صحافیوں نے ضلع بدر کرنے کو کہا جبکہ سابق ریٹائرڈ عسکری عہدہ رکھنے والی شخصیت کا میرے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے مزید کہا کے آج وہی وفادار ہے جو اپنے ہی اداروں پر کیچڑ اچھالے۔پریس کانفرنس کا اختتام بالکل ایسا ہی تھا جیسے کسی مشاعرے میں اشعار سننے کے بعد واہ واہ کی جاتی ہے انھوں نے جڑواں شہروں کے صحافیوں کو اپنی شاعری سنا کر داد دینے پر مجبور کر دیا ۔
ان کا کہنا تھا حالیہ دنوں میں ان ہی معزز جج کا نام ایک سیاسی جماعت کے ساتھ نتھی کیا جا رہا ہے اور وہ اس حوالے سے دوبارہ نمایاں ہو رہے ہیں ۔ان کے متعلق میں نے اس زمانے میں اپنے کیس کے بعد بھی اور کیس سےپہلےبھی کبھی کو ئی ردعمل نا دیا اور اس کا سامنا کیا اور اب ان ہی کی آڈیو لیک ہو چکی ہے جس میں وہ ایک سیاسی جماعت کے قائدین کے متعلق فیصلے بدلنے کے حوالے سے ہدایات دے رہے ہیں تا کے ان کو عملی طور پر ملکی سیاست سے علیحدہ کر دیا جائے اور اب اسی حوالے سےاس آڈیو کی فرانزک رپورٹ بھی سامنے آچکی ہے ۔
یاد رہے صحافی احمد نورانی کے مطابق ان کی سٹوری کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں باقاعدہ طور پر امریکی فرم سےاس آڈیو کا فرانزک کروایا ہے انھوں نے کہا کہ مجھے اس بات پر ہنسی آ رہی ہے کہ کہا جا رہا ہے کہ اس آڈیو کو کاٹ چھانٹ کرکے بنایا گیا کیونکہ میں نے جس امریکی فرانزک لیب سے اسے چیک کرایا اس نے اپنی مکمل رپورٹ میں کہا ہے کہ اس میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ نہیں کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں