تھانہ سہالہ اور تھانہ روات پولیس افسران و اہلکاروں کی قبضہ مافیا کی پشت پناہی سے اہل علاقہ غیر محفوظ

ہماری زمینوں پر علاقے کے با اثر قبضہ مافیاء نے قبضہ کر لیا ہے۔ محمد اشتیاق، حسنین یاسین
علاقے کی پولیس ملزمان کی مکمل پشت پناہی کر رہی ہے اس لیے معاملے کی شفاف انکوائری کرائی جائے۔
ملزمان سے ہماری جان کو شدید خطرات لاحق ہیں لہذا ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے۔متاثرین کی اپیل
اسلام آباد(سٹی رپورٹر) اسلام آباد کے نواحی علاقے روات کے رہائشی محمد اشتیاق ولد محمد اکرام اور حسنین یاسین نے کہا ہے کہ انکی زمینوں پر علاقے کے با اثر قبضہ مافیاء نے قبضہ کر لیا ہے جبکہ علاقے کی پولیس ملزمان کی مکمل پشت پناہی کر رہی ہے، ملزمان سے ہماری جان کو شدید خطرات لاحق ہیں لہذا ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے،انہوں نے وزیراعظم، چیف جسٹس چیئرمین نیب سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور شفاف اور غیر جانبدار انکوئری کرائیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے، نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے روات کے رہائشی محمد اشتیاق کا کہنا تھا کہ میرے والد پاک آرمی جبکہ دادا برٹش آرمی میں اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں جبکہ میں خود مرچنٹ نیوی یو کے سے امتحان پاس کر چکا ہوں اور نیوی سے ریٹائرڈ ہوں، میرے دو بچے(ایک بیٹی عمر بارہ برس جبکہ ایک بیٹا عمر آٹھ برس) ہیں جو کہ میری پہلی بیوی سے ہیں، چونکہ میں ایک معذور شخص ہوں اسلئے میری پہلی بیوی مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہے جس کے بعد میں نے دوسری شادی کر لی ہے، میری چار بہنیں ہیں جبکہ بھائی کوئی نہیں ہے، میں نے اپنے والد صاحب کیساتھ ملکر ایک کنال اٹھارہ مرلے زمین خریدی جو کہ روات جاوا روڈ پر واقع ہے، جو کہ جی ٹی روڈ سے چار سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جو کہ مکمل طور پر کمرشل زمین ہے اس میں سے والد صاحب نے اٹھارہ مرلے میرے نام کر دی جن میں سے پندرہ مرلے پر ایک مارکیٹ بنائی جن میں اٹھارہ دوکانیں اور آٹھ فلیٹ بنے ہوئے ہیں اور ان سے حاصل ہونے والا کرایہ ہی میرا ذریعہ معاش ہے، جبکہ تین مرلے زمین مدرسہ کیلئے وقف کر دی، دوسری طرف میرے ماموں نے میری والدہ کو نو مرلے بہتر یارڈز زمین گفٹ کی جو کہ والد نے میرے نام کر دی، جن پر سترہ دوکانیں اور ایک ہال بنا ہوا ہے، والد نے میری تین بہنوں تین تین مرلے ٹوٹل نو مرلے زمین انکے نام کر دی جبکہ چوتھی بہن کو دس مرلے زمین نام کی،بارہ اگست صبح دس بجے کا واقعہ ہے کہ عثمان نامی ایک شخص دوکان پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ میری بیوی موقع پر پہنچ گئی اور اسے کہا کہ آپ ہماری دوکان پر قبضہ کیوں کر رہے ہیں جس پر عثمان نے قاسم کو فون کیا کہ کوئی محترمہ کہہ رہی ہیں کہ یہ دوکان انکی ہے لہذا ٓپ فوری طور پر موقع پر پہنچیں، جس پر قام اپنی بہن، بھابھیوں دو کرایہ دار خواتین فیصل، خرم اور فرید بخش کے بیٹے علی جو کہ قاسم کا ماموں ہے کو ساتھ لیکر آ گیا اور میری بیوی کو شدید تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا اور میری بیوی کو گھسیٹتے ہوئے اپنے گھر لے گئے جہاں چوہدری حنیف نے کہا کہ اسکے بال کاٹ کر اور کپڑے اتار کر باہر گلی میں نکال دو، اور دوران میری بیوی کے کپڑے پھاڑ دیئے گئے اسی دوران میں نے ریسکیو ون فائیو پر کال کی جس کے دس منٹ کے اندر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور میری بیوی کو شدید زخمی حالت میں ان درندوں سے بازیاب کروایا، جس کا ہم نے پمز ہسپتال سے میڈیکل کرویا تو معلوم ہوا کہ انکی ایک انگلی فریکچر ہو گئی ہے، اب میرے ماموں زاد چوہدری حنیف نے میری چار فرنٹ کی اور دو بیک سائیڈ والی دوکانوں اور ایک فلیٹ پر قبضہ کر لیا ہے، میرے پاس ملزمان چوہدری حنیف اور قاسم کی ویڈیوز موجود ہیں جن میں وہ کرایہ داروں اور دوسرے لوگوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں،اس موقع پر حسنین یاسین کا کہنا تھا کہ انکی زمین پر بھی چوہدری حنیف اور اسکے بیٹے نے جو کہ پولیس کے دو نسلوں سے ٹاوٹ ہیں اور کریمنل ریکارڈ کے مالک ہیں نے زبردستی قبضہ کر لیا ہے،حالانکہ میرے پاس اس زمین کے تمام ملکیتی ثبوت موجود ہیں مگر پولیس ان لوگوں کے ساتھ ملی ہوئی ہے ڈی ایس پی رخسار مہدی کے چوہدری حنیف فیملی سے ذاتی مراسم ہیں اور ایس ایچ او تھانہ سہالہ مرزا گلفراز تفتیشی اور روات چوکی انچارج قاسم ضیاء ملزمان کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور ہماری کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ روات کے علاقے میں بیس سے زائد قحبہ خانے موجود ہیں جو کہ ملزمان پولیس کی پشت پناہی سے چلا رہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا وزراعظم عمران خان، چیف جسٹس آف پاکستان ، آرمی چیف سے مطالبہ ہے کہ ہمارے معاملے کی غیر جانبدار اور شفاف انکوائری کروائی جائے اور مجھے اور میری فیملی کو ان لوگوں سے جان کا خطرہ ہے لہذا ہمیں اور ہماری جائیداد کو تحفظ فراہم کیا جائے اگرہماری یا ہماری فیملی کو کوئی بھی نقصان پہنچا تو اسکے ذمہ دار خرم پرویز، قاسم حنیف اور چوہدری حنیف وغیرہ ہونگے اس لئےخرم پرویز، قاسم حنیف اور چوہدری حنیف کیخلاف سخت سے سخت کارروئی کی جائے جو کہ ہمیں ذہنی اذیت میں مبتلا کئے بیٹھے ہیں اور میری معذوری کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں