طالبان کے امیرالمومنین زندہ ہیں. ذبیح اللّٰہ مجاہد

اسلام آباد (عابد منہاس نیوز رپورٹر )افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے والے طالبان کے ترجمان ذبیح اللّٰہ مجاہد نے کہا ہے کہ شیخ الحدیث ہیبت اللّٰہ زندہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہیبت اللّٰہ ہمارے امیر المومنین ہیں، افغانستان کے آنے والے نظام کا ہیبت اللّٰہ بھی حصہ ہوں گے۔
ترجمان افغان طالبان کا مزید کہنا ہےکہ آپ افغانستان میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں تو یہ امن شریعت کے قانون میں موجود سزاؤں کے نفاذ سے ہی آ سکتا ہے۔
ذبیح اللّٰہ مجاہد کا مزید کہنا ہے کہ اس بار کسی کو سزا دینے سے پہلے اس کے حوالے سے بھرپور تحقیق کی جائے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ 80 فیصد یقین ہے کہ پنج شیر میں معاملات مذاکرات سے حل ہو جائیں گے، ہم صلح صفائی سے آگے جانا چاہتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے افغانستان کے صوبے پنج شیر کے 3 اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق طالبان اور مزاحمتی فورس کے درمیان رات بھر جھڑپیں جاری رہنے کی اطلاعات ملی ہیں۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ طالبان کے مطابق ان کے جنگجوؤں نے مزاحمتی فورس کو گھیرے میں لے لیا ہے۔
طالبان کا کہنا ہے کہ وہ پنج شیر کو طاقت کے بجائے مذاکرات سے فتح کرنا چاہتے ہیں۔
ادھر افغان میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان ذبیح اللّٰہ مجاہد کا کہنا ہے کہ افغانستان کے صوبے پنج شیر میں بہت کم لوگ جنگ چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ پنج شیر کے با اثر افراد اور رہنما ہمیں بار بار یہ پیغام بھجواتے ہیں کہ وہ جنگ نہیں چاہتے۔
ترجمان طالبان ذبیح اللّٰہ مجاہد کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس پیغام کا مطلب ہے کہ پنج شیر کے لوگ لڑنا نہیں چاہتے۔
افغانستان کا کنٹرول سنبھال لینے والے طالبان نے نئے وزیرِ خزانہ، قائم مقام وزیرِ داخلہ، انٹیلی جنس چیف، کابل کے گورنر اور میئر کا بھی تقرر کر دیا ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق طالبان نے گل آغا کو افغانستان کا نیا وزیرِ خزانہ، صدر ابراہیم کو قائم مقام وزیرِ داخلہ مقرر کر دیا ہے۔
افغان میڈیا نے مزید بتایا کہ نجیب اللّٰہ افغانستان کے نئے انٹیلی جنس چیف ہوں گے۔
افغان میڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے ملا شیریں کو کابل کا گورنر تعینات کیا گیا ہے، جبکہ حمد اللّٰہ نعمانی دارالحکومت کابل کے میئر ہوں گے۔
اس سے قبل افغان میڈیا کے حوالے سے ہی یہ خبر سامنے آئی تھی کہ طالبان کی جانب سے افغانستان کے مرکزی بینک کے سربراہ اور وزیرِ تعلیم مقرر کر دیئے گئے ہیں۔
افغان میڈیا کے مطابق طالبان نے ملا عبدالقہار کو سینٹرل بینک ڈی افغانستان کا قائم مقام سربراہ جبکہ ہمت اخوندزادہ کو قائم مقام وزیرِ تعلیم مقرر کیا ہے۔
واضح رہے کہ افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان کی جانب سے اب یہ اعلان سامنے آیا ہے کہ افغانستان میں نئی حکومت کی قیادت مذہبی اسکالرز کریں گے۔
طالبان رہنماؤں کی جانب سے حامد کرزئی اور مزید افغان سیاسی قائدین سے رابطوں میں تیزی بھی آ گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں