مناسب مقدار میں کھاد، زرعی ادویات کے ا استعمال سے پچاس من فی ایکٹر پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔محمد رزاق فیلڈ آفیسر محمکہ زراعت گجرات

کڑیانوالہ (تحصیل رپورٹر )پاکستان میں سپر باسمتی چاول کی فصل کی کاشت کا آغاز وسط جون سے شروع ہو چکاہے ہے۔ یوں تو چاول کی فصل صوبہ خیبر پختونخواہ ، سندھ، بلوچستان میں بھی کاشت ہوتی ہے لیکن اس فصل کی پیداوار کا اصل مرکز و محور صوبہ پنجاب کے اضلاع شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، منڈی بہاﺅالدین، گجرات، حافظ آباد، گوجرانوالہ، چنیوٹ ، جھنگ جبکہ جنوبی پنجاب میں بھی گذارہ لائق چاول کی کاشت ہوتی ہے۔
ویسے تو چاول کی کئی اقسام کاشت کی جاتی ہیں جن میں سپر باسمتی 385باسمتی، اری 6 و دیگر اقسام ہیں لیکن پاکستان اور بیرون ملک جس چاول کی قسم سے پاکستان 3ارب ڈالر ز سے زائد رمبادلہ حاصل کرتا ہے۔ چین، ایران، برطانیہ، جرمنی، ترکی، سعودی عرب، متحدہ امارات، پاکستان کے سپر چاول باسمتی کے بڑے خریدار ہیں۔ پنجاب میں چاول کی کاشت کے لیے بہترین اور موسم کی مناسبت سے مہینہ ساون ہےجو کہ لگ چکا ہے اس میں چاول کی کاشت مکمل کر لینی چاہیے محکمہ زراعت بھی کسانوں سے اس مہینے میں فصل کی کاشت کی سفارشات کرتا ہے۔
چاول کی کاشت کے لیے کسانوں نے پنیری کاشت کرنے کا عمل مکمل کرلیا ہے۔ اب کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ چاول کی پنیری جو جتنی جاندار اور تندرست ہوگی اس سے بہترین پیداوار حاصل ہوگی کسان ہر دوسرے روز پنیری کے پانی کو تبدیل کریں۔ مناسب مقدار میں یوریا کھاد اور زنک کا استعمال کریں۔ جب پنیری کی عمر یعنی وہ زمین سے آدھا فٹ باہر تک نکل آئے تو اس پر سپرے کریں جس سے جڑی بوٹیاں تلف ہوجائیں گی اور پنیری کے زیر کاشت حصہ میں وقتاً فوقتاً جائزہ لیتے رہیں۔
چاول کی فصل کی کاشت کے لیے اس وقت دو طریقے رائج ہیں۔ روایتی طریقہ تو یہی ہے کہ کسان ٹریکٹر یا بیل ہل سے پہلے خشک زمین پر دوہرا ہل چلاتا ہے پھر اس میں پانی چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ پانی کھڑا ہونے سے زمین کے اندر کی ہر قسم کی جڑی بوٹیاں باہر نکل آتی ہیں۔ پنیری کی منتقلی سے پہلے ٹریکٹر کے ذریعے پانی میں ہی ہل چلایا جاتا ہے۔ جسے روایتی زبان اور زرعی اصطلاح میں کدو مارنا کہلاتا ہے۔ پھر سہاگہ مار کر زمین کو ہموار کر دیا جاتا ہے۔ یہ عمل یہاں نہیں ختم ہوجاتا چار پانچ روز تک پانی کو زمین پر کھڑا کیا جاتا ہے اس کے بعد آخری مرحلہ میں پھر زمین میں ہل چلایا جاتا ہے اور سہاگہ مارا جاتا ہے اس کے بعد پنیری کو منتقل کیا جاتا ہے اور پنیری کے پودے زمین میں ایک
دوسرا چاول کی کاشت کرنے کا طریقہ خشک طریقے سے ہے جس کا فائدہ پانی کی کمی والے علاقوں کے لیے کاشت کاروں کے لیے سستا اور آسان دہ ہوتا ہے لیکن یہ طریقہ کار اب پاکستان میں پانی کی کمی اور پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث تیزی سے ہو رہا ہے۔ کاشتکار حضرات زرعی ٹیکنالوجی اور اس طریقے کو استعمال کرکے اپنی پیداواری لاگت کو کم اور کم پانی کی وجہ سے اچھی پیداوار حاصل کرسکتے ہیں۔ وہ طریقہ تو یہ ہے کہ زمین کو لیزر لیول کے ذریعے ہموار کرلیں پھر کسان فی ایکڑ 8 کلو خشک چاول مونجی کا بیج پھیلا دیں اس کے بعد ٹریکٹر کے ساتھ جو ہل لگائی گئی ہیں وہ زمین میں صرف چار انچ تک دھنسا کر ٹریکٹر چلائے جائیں اور ہلوں کے ساتھ ساتھ سہاگہ بھی ساتھ باندھ دیں۔ ہل کے ذریعے بیج زمین کے اندر اور مکس ہوجائے گا اور پیچھے سہاگہ زمین کو ہموار کرتا چلا جائے گا اس کے بعد زمین میں پانی چھوڑ دیں یہ پانی پرانے طریقہ کدو کے مطابق نہیں کہ زمین میں فٹ فٹ اونچا کھڑا رہے۔ بلکہ صرف اتنا پانی کہ زمین اس سے تر ہوجائے اور پانی کسی جگہ اگر کھڑا ہوجائے تو اسے نکال دیں۔ اس طریقہ سے نہ تو پنیری اگانے کی ضرورت پیش آتی ہے نہ پنیری کی تیاری میں کھاد سپرے کی ضرورت اور نہ ہی زمین کی تیاری کے لیے دو دفعہ ہل چلانے کی۔ کدو مارنے اور پنیری کو فصل میں منتقل کرنے اور افراد سے اسے لگانے کی محنت درکار ہوتی ہے۔ اس سے کسان کا کافی اخراجات بچ جاتے ہیں
پانی کھڑا کرکے کدو مار کر اور پنیری لگانے کے اسی روزمحکمہ زراعت کی سفارش کے مطابق یا تو اسی وقت یا 14گھنٹوں کے اندر اندر وہ زرعی دوا ڈالیں اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ ایک تو زمین نرم پھول جائے گی اور جڑی بوٹیوں کا زمین کے اندر ہی خاتمہ ہوجائے گا۔ جبکہ خشک طریقے سے چاول کاشت کرنے والے کاشتکار جب فصل زمین سے باہر نکل آئے یعنی پودہ ایک ایک فٹ کا ہوجائے اس میں پانی کھڑا کرکے سپرے کردیں اس سے جڑی بوٹیاں تلف ہوجائیں گی اس کے بعد پانی فصل کے پکنے تک کھڑا رکھیں صرف چند روز کے لیے پانی کو زمین سے نکال دیں اسے خشک و تر کا عملہ کہتے ہیں تاکہ پودوں کو ہوا لگ سکے۔محکمہ زراعت گجرات کے فیلڈ آفیسر محمد رزاق کا کہنا ہے بہتر کاشت زنک کا استعمال فی ایکٹر 2 پیکٹ استعمال کیا جائے جبکہ یوریا کھاد کے استعمال سے
فصل کی کاشت کے 15 سے 20 روز کے بعد محکمہ زراعت کے عملہ کے مشورے سے یوریا کھاد مقدار کی مناسبت سے ڈالی جائے۔انھوں نے مزید کہا کیڑے مار زہر کے استعمال سے
فصل کو سنڈیوں، تیلے اور دیگر بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے محکمہ زراعت کے فیلڈ عملہ کے مشورے سے رجسٹرڈ زرعی کھاد و ادویات ڈیلر سے مستند دوائی ڈالیں۔ اور دوائی بھی مقرر مقدار سے ہر گز زیادہ نہ ڈالیں دوائی کی زیادہ مقدار سے پودے سڑنے اور پھل کم لگانے کا واضح امکان ہوتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا جب پودے پر چاول کی مونجریں لگنی شروع ہوجائیں۔ اس وقت تیلے اور کیڑی بیماری کا خطرہ شدید لاحق ہوجاتا ہے۔ مونجریں نکلنے اور فصل کے پکنے سے 15روز قبل فصل پر سپرے کریں اسی سے تیلے کا خاتمہ اور فصل مونجی کا کلر جاندار اور چمکدار ہوجاتا ہے۔ جس سے کسان کو مارکیٹ میں فصل کی قیمت مناسب ملنے کا واضح امکان ہوتا ہے۔
انشا ءاللہ اگر کاشتکار حضرات نے احتیاطی تدابیر، زمین کی اچھی تیاری اس کی دیکھ بھال، مناسب مقدار میں کھاد، زرعی ادویات کا استعمال
کیا تو انھیں 50 من فی ایکڑ پیداوار با آسانی حاصل ہوسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں