نازیبا ویڈیو،تشدد کیس،چھٹا ملزم شناخت کیلئے جیل منتقل

اسلام آباد (عابد منہاس )جوڈیشل مجسٹریٹ وقار گوندل نے تھانہ گولڑہ کے علاقہ میں نازیبا ویڈیو بنانے، تشدد اور بلیک میلنگ کیس میں گرفتار چھٹے ملزم کو شناخت کیلئے جیل بھیج دیا جبکہ دوسرے ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں ایک روز کی توسیع کردی۔ پیر کو سماعت کے دوران پشاور سے گرفتار چھٹے ملزم محب اللہ کو منہ ڈھانپ کر عدالت پیش کیاگیا۔ا دھر پہلے سےگرفتار قیوم بٹ کو بھی جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت پیش کیاگیااور پولیس کی طرف سے مزید ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔۔ادھرڈی آئی جی آپریشنز افضال احمد کوثر نے پولیس لائنزہیڈ کوارٹرکمیٹی روم میں ایس ایس پی انویسٹی گیشن عطاء الرحمن اور ایس ایس پی آپریشنز سید مصطفی تنویر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ گرفتارملزمان کے خلاف درج مقدمے میں بھتہ خوری،ڈکیتی اور جنسی زیادتی کوشش سمیت مزید 8دفعات کا اضافہ کر دیا گیا ہے،مقدمہ کی روشنی میں ملزمان کوسزائے موت اور عمر قید تک کی سزائیں ہو سکتی ہیں،مرکزی ملزم عثمان مرزا کے موبائل فون بر آمد کر کے فرانزک کے لئے بھجو ائے جا رہے ہیں،متاثرہ لڑکے اور لڑکی کا بیان بھی قلمبند کر لیا گیا ہے۔ اب تک مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت چھ ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں،ان میں فرحان خان، عطاء لرحمان، عدارس بٹ، عمر بلال اور محب خان شامل ہیں، عثمان مرزا کے بھائی ابرار مرزا کی گرفتاری کے لیے بھی چھا پے مارے جا رہے ہیں۔واضح رہے متاثرہ جوڑے سے تیرہ لاکھ روپے کی جو رقم لی تھی وہ تا حال برآمد نہیں ہو سکی ۔
دریں اثناء لڑکی کو بے آبرو کرنیوالے عثمان مرزاکیخلاف مزید دفعات لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں لڑکے اور لڑکی کو ہراساں اورلڑکی کو بےآبرو کرنیوالے عثمان مرزاکیخلاف مزید دفعات لگانے کا فیصلہ کیاگیاہے، ڈی آئی جی آپریشنز کا کہناہےکہ بھتہ مانگنے،پیسے چھیننے اورزیادتی کرنے کی مختلف دفعات شامل کی جائیں گی ، کیس مزید موثر ہو جائیگا ۔تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد افضال کوثر نےپولیس لائنز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ عثمان مرزا کیس میں نئے حقائق سامنے آئے ہیں، ملزمان گرفتار ہیں، متاثرہ لڑکی اور لڑکے کے بیان قلمبند ہوچکے،انکی روشنی میں ایف آئی آر میں نئی دفعات شامل کر رہے ہیں، ایف آئی آر میں بھتہ مانگنے،پیسے چھیننے،زیادتی کی مختلف سیکشنز ایف آئی آر میں شامل کریں گے ،ایف آئی آر میں نئی دفعات کے شامل ہونے سے کیس مزید موثر ہو گا،ملزم عثمان مرزا کے موبائل فونز پولیس نے برآمد کرلئے ہیں، اس کیس سے جڑے دوسرے حقائق کو بھی سامنے لانے کی کوشش جاری ہے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے لڑکے اور لڑکی پر تشدد کے کیس کی سماعت کے دوران مرکزی ملزم عثمان مرزا اور دیگر ملزمان کو مزید 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں لڑکے اور لڑکی پر تشدد کے کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ وقار گوندل نے کرتے ہوئے عدالت سے غیر متعلقہ افراد کو باہر نکال دیا۔
مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت 4 ملزمان کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا۔
متاثرہ لڑکے اور لڑکی کی جانب سے وکیل حسن جاوید شورش کیس کی پیروی کر رہے ہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اب تک ٹوٹل کتنے دن کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جا چکا ہے؟
سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ ملزمان کا 6 روز کا جسمانی ریمانڈ ہو چکا ہے، مرکزی ملزم عثمان مرزا سے 2 موبائل اور پستول برآمد کیا گیا، متاثرہ لڑکا لڑکی کا 164 کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے، ملزمان نے متاثرہ لڑکے لڑکی سے مختلف اوقات میں 11 لاکھ 25 ہزار روپے وصول کیئے۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے لڑکے اور لڑکی کی ڈھائی گھنٹے کی ویڈیو بنائی، اس مقدمے میں 12 ملزمان شامل ہیں، جن پر 375 اے کی نئی دفعات لگائی گئی ہیں جس میں سزا عمر قید یا سزائے موت ہے، ڈھائی گھنٹے کی ویڈیو میں ملزمان نے خاتون کے ساتھ غیر اخلاقی حرکتیں کیں، ملزم سے جو پستول برآمد ہوا ہے اس کی الگ ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے، بھتہ وصولی پر دفعہ 384 کی دفعہ لگائی گئی ہے۔
پولیس نے عدالت سے ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کر دی۔
معنی کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ وکیلِ صفائی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کیس سائبر کرائم سیل کی جانب جائے گا، ایسا نہیں ہے، مدعی لڑکا اور لڑکی سیکیورٹی کے باعث پیش نہیں ہوئے ہیں۔
مدعی کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ ڈیٹا کی ریکوری کیلئے ضروری ہے کہ ملزمان کو جسمانی ریمانڈ پر دیا جائے، ایسے حالات بنا دیئے گئے ہیں کہ کوئی شادی شدہ جوڑا بھی ہوٹل جانے سے ڈرتا ہے۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ملزم عثمان مرزا اور دیگر ملزمان کو مزید 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان میں مرکزی ملزم عثمان مرزا، حافظ عطاء، فرحان اور ادریس قیوم بٹ شامل ہیں، تھانہ گولڑہ کی حدود میں پیش آئے واقعے میں 14 لوگ جائے وقوع پر موجود تھے، ویڈیو ڈھائی گھنٹے بنائی گئی، 3 لوگ ویڈیو بنانے والے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں