میجر طاہر صادق سازشی اپنی سازشوں سمیت آپ کے قدموں میں ناک رگڑیں گے۔

میں اس وقت ساتویں جماعت کا طالب علم تھا
سردار صادق کا انتقال ہو چکا تھا اور بہ وجہ مجبوری بیگم سردار صادق کو الیکشن لڑنا تھا میجر طاہر صادق اس وقت سرکاری افسر تھے اور فوری طور پر مستعفی ہونے کی صورت میں بھی ان کو انتخابی قواعد کے تحت دو سال انتخابی عمل سے دور رہنا تھا بیگم سردار صادق گھریلو خاتون تھیں سیاسی بکھیڑوں سے ہمیشہ دور رہی تھیں انہیں اپنے خاندان سے ایک ایسے بچے کی تلاش تھی۔ جو ان کے ساتھ خواتین کے جلسوں میں جاۓ اور پارٹی منشور کے حوالے سے بات چیت کرسکے اکبر خان مرحوم ہمارے عزیز تھے ایک دن مجھے لے گئے بیگم صاحبہ نے چند باتیں مجھے سمجھائیں جو میں نے طوطے کی طرح رٹ لیں پھر انتخابی مہم میں ان کے ساتھ ہر جگہ گیا وہ بہت شفیق خاتون تھیں اللہ تعالی ان کے درجات بلند کرے آمین انہوں نے مجھے بیٹا کہا تو ساری عمر اس کو نبھایا میرے لئیے فکرمند رہتیں اس انتخابی کامیابی نے مجھے بہت ہمت دی اعتماد میں اضافہ ہوا باغی قلندر ان دنوں اٹک سے ایک ہفت روزہ اخبار نکالتے تھے میں اس کے ساتھ منسلک ہوگیا اور یوں صحافتی سفر بھی شروع ہوگیا اس سیاسی معرکے کے ساتھ میری بے پناہ یادیں جڑی ہیں اور بہت سارے دل چسپ واقعات ہیں جو میں کسی وقت ضرور احاطہ تحریر میں لاؤں گا سبطین حیات ملک اس وقت ایم ایس ایف کے بہت متحرک راہنما تھےان سے اس دور کی دوستی کا رشتہ آج بھی قائم ہے
میجر طاہر صادق سے میری محبت اس دور سے ہے اور ہمیشہ میں نے ان کیلئے اپنی اوقات اور استعداد سے بڑھ کرکام کیا ہے ان کے راستے سے کانٹے چنے ہیں ان کی لابنگ کی ہے کرنل شجاع خان زادہ اور ملک حاکمین خان میرے یار غار تھے سچے جہان میں چلے گئے اکثر مذاق میں کہا کرتے تھے کہ ملک یار ہمارا ہے لیکن دل اس کا میجر طاہر کیلئے دھڑکتا ہے
میجر طاہر صادق سے میرا رشتہ تو ماں جی کی محبت سے بندھا ہے لیکن اٹک کیلئے جو کچھ انہوں نے کیا وہ مورخ سنہری الفاظ سے لکھنے پر مجبور ہوگا دکھ یہ ہے کہ انکے مخالفین نے کبھی بھی کارکردگی سے ان کا مقابلہ نہیں کیا بلکہ سازشیں کرکے ان کا راستہ روکا جو اصل میں اٹک کی ترقی کا راستہ روکنا تھا
ان دنوں جنڈ سے ایک متنازعہ شخص کی تصویر کے ساتھ غلیظ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اگرچہ اس پروپیگنڈہ کا کوئی اثر ممکن نہیں ہے کیونکہ میجر طاہر صادق کی مذہبی کارکنان کیلئے خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں وہ ایک سچے عاشق رسول ہیں لیکن اس سازش کے تانے بانے جوڑنے والے احمقوں کو شاید یہ خبر نہیں کہ عاشقان مصطفے کیلئے اس وقت نیشنل اسمبلی میں حکومتی بینچوں سے ایک مضبوط آواز میجر طاہر ہے جو پارٹی وابستگی سے بالاتر ہوکر تحریک لبیک سمیت تمام زیر عتاب مذہبی کارکنان کی جنگ جی جان سے لڑ رہے ہیں
میجر طاہر صادق چونکہ آپ سازشی عناصر کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں ایک بے اختیار میجر طاہر بھی ان پر بھاری پڑ رہاہے اس لئیے کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچنے میں لگے ہوئے ہیں آپ اٹک کے مسیحا ہیں اور آپ کے لاکھوں چاہنے والے ہر وقت آپ کیلئے دعاگو ہیں عوامی دور دوبارہ آۓ گا ترقی کا جو سفر رک گیا ہے شروع ہوگا یہ سارے سازشی اپنی سازشوں سمیت آپ کے قدموں میں ناک رگڑیں گے اور اپنا تھوکا چاٹیں گے اور اس سنہری دور کی آہٹ میں سن رہا ہوں

اپنا تبصرہ بھیجیں