جس پارٹی نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا ان کو ایوان کے تقدس سے کوئی سروکار نہیں۔ملیکہ بخاری

اسلام آباد (عابد منہاس )تحریک انصاف کی خواتین ارکان اسمبلی نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے رویے سے کوئی خاتون رکن پارلیمنٹ محفوظ نہیں، ایسے لوگوں کے پارلیمنٹ میں آنے پر پابندی لگائی جائے۔۔ ہم دلائل سے پارلیمان میں بات کریں گے اور آپ کو بے نقاب کریں گے۔
تحریک انصاف کی ایم این اے ملیکہ بخاری نے وزیر مملکت زرتاج گل اور ایم این اے صائمہ ندیم دیگر خواتین ارکان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کل جو ہوا وہ پارلیمان کیلئے سیاہ دن تھا، کل میری ذاتی طور پر تضحیک و تذلیل ہوئی، پارلیمان میں خاتون ممبران کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں اور کتابیں پھینکی جاتی ہیں۔

وزیرمملکت زرتاج گل کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے رویے سے کوئی خاتون رکن پارلیمنٹ محفوظ نہیں، ن لیگ قبضہ گروپس اور غنڈوں کی سرپرستی کرتی ہے، ن لیگ نے سیاسی جماعت ہونے کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے، ایسے لوگوں پر پارلیمنٹ ہاؤس میں آنے پر پابندی لگائی جائے۔
واضح رہے بجٹ اجلاس کے دوران حکومتی ارکان اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے ارکان میں تلخ جملوں کا استعمال کثرت سے ہوا یہ ہی نہیں بجٹ کتابچے کو ایک دوسرے کے اوپر پھینک کر ایوان کے تقدس کو پامال کیا گیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ہنگامہ آرائی میں ملوث 7 ارکان کے اسمبلی حدود میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے ۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایوان میں ہنگامہ آرائی اور نازیبا الفاظ استعمال کرنے والے 7 اسمبلی ممبران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اُن کے اسمبلی حدود میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق اسپیکر نے یہ کارروائی اسمبلی کے قواعد وضوابط کے تحت کی جس کے مطابق ممبران پر یہ پابندی اگلے احکامات آنے تک جاری رہے گی۔
جن اراکین پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں علی نواز اعوان، عبدالمجید خان ، فہیم خان، شیخ روحیل اصغر، علی گوہر خان، چوہدری حامد حمید اور آغا رفیع اللّٰہ شامل ہیں۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے اس سلسلے میں متعلقہ اراکین اور اسمبلی سیکیورٹی کو احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔
اسپیکر اسمبلی اسد قیصر نے اس متعلق سوشل میڈیا پر بھی بیان دیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ قائدحزب اختلاف کی تقریر کے دوران خلل پیدا کرنے والے ارکان کا رویہ غیر پارلیمانی تھا۔
اسد قیصر نے کہا کہ ان اراکین کا رویہ نامناسب تھا، ان کے ایوان میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ایوان میں ہنگامہ آرائی کی تحقیقات کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے آج ایوان میں نصب کیمروں کی فوٹیجز بھی دیکھی ہیں ۔
اسپیکر قومی اسمبلی کی صدارت میں آج اسمبلی اجلاس میں گزشتہ روز قومی اسمبلی میں ہوئی ہنگامہ آرائی کا معاملہ زیر غور آیا، اجلاس میں ہنگامہ آرائی کی ویڈیوز بھی دیکھی گئیں۔
اسپیکر نے اجلاس کے دوران کہا کہ پارلیمنٹ میں اس طرح کے رویے کو برداشت نہیں کر سکتے، ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔
ذرائع کے مطابق ہنگامہ آرائی کرنے والے اراکین قومی اسمبلی پر ایوان میں پابندی کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔دریں اثناء پابندی کے باوجود شیخ روحیل اصغر اور آغا رفیع اللہ ایوان میں داخل ہوگئے تھے سارجنٹ آف آرمز نے دونوں اراکین کو باہر جانے کی ہدایت کر دی۔
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے آج اسمبلی اجلاس سے قبل اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے ملاقات بھی کی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں