صحافت کا جنازہ تحریر:سید اشتیاق بخاری

میڈیا ورکرز اور جرنلزم دو مختلف اور متضاد نظریات ہیں اسے گڈ مڈ مت کریں۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ڈاکٹر اور پیرا میڈیکس ، وکیل اور کلرکس (منشی) انجینئر اور مستری مزدور الیکٹریشن پلمبر وغیرہ۔ جس کا جو کام اسے ہی سانجھے۔
ارض پاک میں صحافی کے لیے بھی متعلقہ تعلیم اور ڈگری کا ہونا لازم ہونا چاہیے اور ایسا آئینی ادارہ بھی ہونا چاہیے جو اسے معتبر اور تحفظ فراہم کرنے والا ہو۔ڈیجیٹل میڈیا جو سرکار کے اشتہارات کا متمنی ہو اسے اسی آئینی ادارہ سے بطور جرنلسٹ اور اپنے میڈیا کو متعلقہ ریگولیٹر سے ضابطہ اخلاق کا پابند ہونا چاہیے ورنہ بغیر سرکاری اشتہار اسے اپنا وی لاگ جاری رکھنا چاہیے اپنے اخراجات پہ وہ چلتا رہے جہاں غلط کرے سائبر قانون اور قانون ہتھک عزت کا خود سامنا کرے۔
ورکر آزادی اظہار میں معاون و مددگار ہے مگر آزادی اظہار کا معاملہ انک مین یا سوشل میڈیا پہ نظر آنے والے وی لاگرز کا نہیں ہے۔ صحافت کو صحافت ہی رہنے دیا جائے۔
اسے صحافتی منڈی نہ بنایا جائے۔
یہ کہاں کی صحافت ہے دراز آن لائن سے ایک ہزار روپے کا مائیک منگوایا اسے چائنہ موبائل میں لگایا ایک سو روپے کا لوگو بنوایا اور شروع ہو گئے کسی ٹریفک کانسٹیبل کے خلاف محلے کے دوکان دار کے خلاف اپنے ذاتی غصے اور جہالت کا پرچار کیا یہ صحافت ہے ؟اور جو بڑے بڑے وی لاگرز ہیں انکے پروگرام میں کیا معلومات ہیں ؟ جو عوامی سیاسی سماجی مفاد کی ہیں ماسوائے جھوٹے اور ضمیر فروش تجزیوں کے۔۔۔
صحافت کی تباہی کی بنیاد ماضی میں بڑے بڑے اخباری اداروں نے کریانہ سٹور میڈیکل سٹور سکول ٹیچر پٹواری سرکاری ملازمین اور نہ جانے کس کس کو دور دراز علاقوں میں پیسہ لیکر نمائندہ مقرر کرنے سے رکھی رہی سہی کسر خبریں اخبار نے اپنے آغاز میں ہر گلی محلے میں دو نمبر افراد کو پیسے لیکر پریس کارڈ جاری کیے اوران کی جھوٹی اپنے ناجائز کاروبار کے تحفظ میں دی جانے والی خبروں کی دھڑا دھڑ اشاعت لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے سے نکال دی۔ اسکی انتہا ملک بھر کے پریس کلبز اور صحافتی یونینز کے خودساختہ قائدین اور سٹیبلشمنٹ کی آشیرباد سے چھوٹے ذہن کا حاملین قیادت نے جعلسازوں پراپرٹی مافیا سمگلرز کو اپنی سیاست چمکانے اور پیسے کی ریل پیل کے لیے ممبرز بنا کر کر دی۔ اب ملک پاکستان میں ہر بندہ فیس بک لائیو اور وی لاگ بنا کر صحافی بن گیا ہے مگر صحافت ختم ہو گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں