ہنزہ میں گلیشیائی جھیل کے پھٹنے کا خدشہ۔محکمہ موسمیات

اسلام آباد (آر پی این )ششپر گلیشئر کے سرکنے اور پانی کا بہاؤ رکنے سے حسن آباد ہنزہ میں بننے والی جھیل کے پھٹنے کا خدشہ ہے، گلیشیائی جھیل رواں برس موسم گرما میں درجہ حرارت میں اضافہ کے ساتھ پھٹنے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ 3 سے 4 ہفتے بہت اہم ہیں، اس دوران اس کی مسلسل نگرانی ضروری ہے تاکہ کسی ناگہانی صورتحال سے متعلق معلومات حاصل ہوتا رہے۔
محکمہ موسمیات نے گلاف الرٹ میں سفارش کی ہے کہ حسن آباد ہنزہ میں آٹومیٹک ویدر اسٹیشن نصب کیا جائے۔ گلاف پراجیکٹ 2 کے ذریعے تجویز کردہ ہائیڈرو میٹیریالوجیکل آلات کی آمد تک ششپر گلیشئر پر واٹر لیول اور واٹر ڈسچارچ مانیٹرنگ اسٹیشن نصب کیا جائے، اس کے علاوہ گلیشیائی جھیل سے پانی کے اخراج کو یقینی بنانے کے لئے فوری اقدامات بھی کئے جائیں جس کے لئے ہائیڈرالک سائفن تیکنیک استعمال کی جائے تاکہ پانی کے اخراج کے ذریعے ممکنہ خطرے کو کم سے کم کیا جاسکے۔
یاد رہے گزشتہ سال بھی چترال کی گولین وادی میں آنے والا سیلاب ایک گلیشیائی جھیل کے پھٹنے کے سبب تھا۔
پاکستان کے شمالی علاقوں میں واقع خوبصورت وادی چترال کے بُلند ترین مقام شندور پرپولو میلہ اپنی روایتی خوبصورتی کے ساتھ جاری تھا، دنیا بھر سے آئے ہوئے سیاحوں کے دل گھوڑوں کی ٹاپوں کے ساتھ دھڑک رہے تھے اور پوری وادی ڈھول کی تھاپ پر رقصاں تھی کہ چترال ہی کی ایک وادی سیلاب کی لپیٹ میں آگئی۔
دنیا نے چترال کے حوالے سے یہ دونوں اچھی بُری خبریں ایک ساتھ سُنیں۔ یہ سیلاب چترال شہر سے 25 کلومیٹر دُور گولین وادی کے روگھیلی گلیشئر کے پھٹنے سے آیا جس سے گولین ویلی روڈ، پانچ پُل، بجلی گھر، گھروں، دکانوں، مویشیوں کے باڑوں اور بڑی تعداد میں باغات اور زرعی اراضی کو نقصان پہنچا جبکہ ازغور کے مقام پر قدرتی جنگلات کے بہت سے قیمتی درخت بھی سیلاب کی نذر ہوگئے۔ کھڑی فصلیں اور فراہمئ آب کے تمام کے تمام پائپ بھی اس سیلاب میں محفوظ نہ رہے۔ راستہ بند ہونے سے گولین کی وادی میں لوگ محصور ہوگئے تھے جنہیں بعد ازاں نکال کر محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا۔
وہ دیہات جہاں گولین وادی سے پانی فراہم کیا جاتا ہے، وہاں اب بھی ایمرجنسی کی صورتحال برقرار ہے۔ ان میں سرِ فہرست موری پائیں اور برغوزی کے دیہات ہیں۔ موری پائیں کی آنادہ تقریباً 350 افراد پر مشتمل ہے، اور پانی کے لیے یہ گولین پر ہی انحصار کرتا ہے۔ چونکہ علاقے میں فصل کی کاشت کا سیزن ہے اس لیے کاشت کار انتہائی پریشان ہیں۔
پاکستان اپنے منفرد جغرافیہ کی بدولت دنیا بھر میں ایک اہم مقام رکھتا ہے، یہاں سمندر، ساحل، دریا، ڈیلٹا، صحرا، پہاڑ ی علاقے، گلیشئر، جنگل اور زرعی اراضی کی صورت گوناگوں ایکو سسٹم یا ماحولیاتی نظام موجود ہیں۔ شاید ہی کسی دوسرے ملک میں اتنا تنوع پایا جاتا ہو۔
ہمارے ان گلیشئروں سے دستیاب پانی کی مقدار دریائے سندھ کے کُل بہاؤ کے نصف کے قریب ہے اور یہ پانی ملک کی زرعی، صنعتی اور بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ گرمیوں میں درجہءِ حرارت کے بڑھنے سے یہ گلیشئر پگھلنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ان گلیشئروں کے چھلکتے پانی سے اردگرد کے نشیبی علاقوں میں جھیلیں بننا شروع ہوجاتی ہیں جہاں گلیشئر سے رستا ہوا پانی جمع ہوتا رہتا ہے۔
گلیشئر سے بننے والی ان جھیلوں کو گلیشیائی جھیلیں کہا جاتا ہے۔ جب یہ جھیلیں اپنی کُل گنجائش تک پہنچ جانے پر اضافی پانی کا بوجھ برداشت نہیں کرپاتیں تو یہ پھٹ جاتی ہیں جس سے پانی تیز رفتاری سے نشیبی علاقوں کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ چونکہ یہ پانی بلندی سے نشیب کی طرف بہہ رہا ہوتا ہے اس لیے پانی کی رفتار بھی تیز ہوتی ہے اور یہ اپنے ساتھ مٹی، برفانی تودے اور بڑے بڑے پتھر بھی لارہا ہوتا ہے۔
زیریں آبادیوں کے لیے یہ ایک تباہ کُن سیلاب ہوتا ہے جو اچانک ہی انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ۔
محکمہءِ موسمیات پاکستان کے سابق ڈی جی ڈاکٹر غلام رسول کے مطابق شمالی علاقہ جات خصوصاً گلگت بلتستان میں 7 ہزار سے زائد گلیشئر ہیں اور ان کے ساتھ 3044 گلیشیائی جھیلیں موجود ہیں جن میں سے 36 جھیلوں کو انتہائی خطرناک قرار دیا جا چکا ہے ۔محکمہ موسمیات کے مطابق محکمہ موسمیات کی ٹیکنیکل ٹیم مارچ کے پہلے ہفتے میں ہنزہ جائے گی، جو جھیل پر آٹو میٹک ویدر اسٹیشن نصب کرے گی، اس سلسلے میں محکمہ موسمیات نے گلگت بلتستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کو واٹر لیول گیج فراہم کرنے کی درخواست کردی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں